ویب ڈیسک: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ویڈیو بیان میں نیا پینڈوراباکس کھول دیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس نے پارٹی کے اندرونی حالات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں شعوری طور پر مایوسی پھیلائی جا رہی ہے اور رہائی کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کو صاف الفاظ میں آگاہ کیا کہ بعض وی لاگرز پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گنڈا پور نے الزام لگایا کہ علیمہ خان ان وی لاگرز کو روکنے کے بجائے ان کا ساتھ دے رہی ہیں، جس سے پارٹی میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔
مزید برآں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے انکشاف کیا کہ حفیظ اللہ نیازی ایسے مضامین تحریر کر رہے ہیں جن میں علیمہ خان کے ساتھ ’’چیئرپرسن‘‘ اور ’’وزیراعظم‘‘ جیسے القابات استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک منظم مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد عمران خان کی قیادت کے متبادل بیانیے کو فروغ دینا ہے۔
گنڈا پور نے واضح کیا کہ گروپ بندی اور ذاتی مفادات کے حصول نے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سیاسی اور تنظیمی سطح پر مزید بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ پیش کرنا ہماری مجبوری تھی، ورنہ قانونی طور پر حکومت نااہل قرار دی جاتی اور نظام لپیٹ دیا جاتا۔
انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ اصل ہدف عمران خان کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ باہمی اختلافات کو بڑھاوا دینا۔ ان کے بقول، انہوں نے جو کچھ دیکھا اور سنا، وہی بانی پی ٹی آئی کو بیان کیا تاکہ حقیقت ان تک پہنچ سکے۔
اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کے بوجھ تلے مزید دباؤ کا شکار ہوگی یا عمران خان کی قیادت میں دوبارہ یکجہتی قائم کر پائے گی۔