موٹے جرنیلوں اور ایڈمرلز کے لیے فوج میں کوئی جگہ نہیں،امریکی وزیرجنگ کا اعلان

موٹے جرنیلوں اور ایڈمرلز کے لیے فوج میں کوئی جگہ نہیں،امریکی وزیرجنگ کا اعلان
کیپشن: موٹے جرنیلوں اور ایڈمرلز کے لیے فوج میں کوئی جگہ نہیں،امریکی وزیرجنگ کا اعلان

ویب ڈیسک: امریکہ میں فوجی نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا۔ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا ہے کہ اب امریکی افواج میں سخت جسمانی معیار نافذ ہوں گے اور جو افسران یا اہلکار ان پر پورا نہ اتر سکے، انہیں فوراً فارغ کر دیا جائے گا۔

ورجینیا کے شہر کوانٹیکو میں اعلیٰ فوجی قیادت کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’موٹے جرنیلوں اور ایڈمرلز کے لیے فوج میں کوئی جگہ نہیں۔‘‘ ان کے مطابق، نئی اصلاحات کے تحت ہر فوجی اہلکار کو سال میں دو بار فٹنس ٹیسٹ اور باڈی فیٹ پیمائش سے گزرنا ہوگا تاکہ صرف بہترین جسمانی صلاحیت والے افسران ہی اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔

وزیرِ جنگ نے مزید کہا کہ جنگی محاذوں پر تعینات فوجیوں کے لیے مردانہ معیار پر مبنی سخت ٹیسٹ لازمی ہوں گے۔ اس کے علاوہ، فوجیوں کو بال چھوٹے رکھنے اور داڑھی صاف رکھنے کی بھی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج سے ’’سیاسی درستی‘‘ کی پالیسیوں کو ختم کر کے اسے دوبارہ سخت گیر اور جنگ کے لیے تیار بنایا جا رہا ہے۔

پیٹ ہیگستھ نے تنبیہ کی کہ جو افسران اس اصلاحاتی پروگرام سے متفق نہیں، وہ فوری طور پر استعفیٰ دے دیں کیونکہ اب امریکی فوج میں نرمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔

تاہم ان اعلانات نے سیاسی محاذ پر ہلچل مچا دی ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے وزیرِ جنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس مین گریگوری میکس نے کہا کہ ’’ پیٹ ہیگستھ فوج کو ثقافتی جنگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق، ایسے بیانات وزیرِ جنگ کی نااہلی اور غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جسمانی فٹنس پر زور دینا فوج کے لیے مثبت ہو سکتا ہے، لیکن ’’ووک پالیسیوں‘‘ کو نشانہ بنانا زیادہ تر سیاسی ایجنڈا معلوم ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی فوج میں یہ اصلاحات کس حد تک نافذ ہو پاتی ہیں اور اس کے اثرات مستقبل کی فوجی حکمتِ عملی پر کیسے پڑتے ہیں۔

Watch Live Public News