ویب ڈیسک: اسرائیلی فوج نے غزہ کی طرف امداد لے کر جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ پر حملہ کردیا ہے۔
غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق غزہ کے محصور عوام کے لیے امدادی اشیا اور ادویات لے کر جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ نامی بحری قافلے کو اسرائیلی فوج نے گھیرے میں لے لیا ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز قافلے کے ایک جہاز پر سوار ہو گئی ہیں اور جہاز پر موجود تمام افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ہے اور قافلے میں 500 سے زیادہ افراد سوار ہیں جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا امدادی سامان لے کر غزہ کی طرف گامزن ہے، فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق انسانی ہمدردی پر مبنی گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کے ساحل سے 90 ناٹیکل میل دور ہے
رپورٹس کے مطابق صمود فلوٹیلا کی متعدد کشتیوں کے لائیو فیڈ اچانک بند ہوگئے ہیں، جبکہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اسرائیلی بحریہ کی کارروائی کے نتیجے میں ہوا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کو راستہ بدلنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اسرائیلی بحریہ صمود فلوٹیلا کے قریب پہنچ گئی ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ فلوٹیلا وار زون میں داخل ہو رہا ہے۔
اس قافلے میں 40 سے زیادہ کشتیاں اور قریباً 500 افراد شریک ہیں، جن میں اٹلی کے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے بتایا گیا کہ اسرائیلی بحریہ کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود گلوبل صمود فلوٹیلا کی 30 کشتیاں اب بھی غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔ یہ کشتیاں غزہ سے صرف 46 ناٹیکل میل یعنی85 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کشتیوں پر امدادی سامان موجود ہے اور ان کا مقصد محصور غزہ کے عوام تک انسانی امداد پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی کارکنان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود ان کا مشن جاری رہے گا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ویڈیو میں فلوٹیلا کو ریڈیو کے ذریعے خبردار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلوٹیلا کو کہا گہا ہے کہ اگر وہ غزہ کو امداد پہنچانا چاہتے ہیں تو اپنا رخ اشدود کی بندرگاہ کی جانب موڑلیں جہاں سے امداد کو غزہ پہنچادیا جائے گا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج فلوٹیلا تک پہنچ گئی ہے اور فلوٹیلا کو راستہ تبدیل کرنے کا کہا جارہا ہے۔
فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن تیاغو اویلا نے اپنے جہاز سے بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہم اپنے مشن کے ایک فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ رہے ہیں۔ اس وقت ہم ان (اسرائیل) کی فوجی ناکہ بندی کے قریب بڑھ رہے ہیں‘۔
ترک خبر رساں ادارے سے فلوٹیلا کے ایک جہاز پر موجود کارکن زین العابدین اوزکان نے بتایا کہ رات بھر فلوٹیلا کے اوپر ڈرونز کی پروازیں جاری رہیں اور صبح تقریباً 5 بجے فلوٹیلا میں شامل ’الما‘ نامی مرکزی کشتی کے جی پی ایس اور انٹرنیٹ سسٹم پر سائبر حملہ کر کے اس سے رابطہ منقطع کر دیا گیا۔
’الما‘ پر موجود ترک کارکن متیہان ساری نے کہا کہ ’یہ اب تک کی سب سے بڑی ہراسانی تھی جس کا ہمیں سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوئے اور انہیں بتایا کہ ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے‘۔
متیہان ساری کے مطابق اسرائیلی بحری جہاز ’الما‘ سے صرف 5 سے 10 میٹر کے فاصلے تک آگئے تھے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔