ویب ڈیسک: دریائے چناب میں ہیڈ تریموں پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ تریموں پر پانی کی آمد 493159 کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔ تحصیل کے کئی دیہات ڈوب گئے۔
تفصیلات کے مطابق بلہٹر ، عمرانہ جنوبی ، کامرہ میں بھی پانی داخل ہو گیا۔ متعدد دیہاتوں کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا۔ دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور قادرآباد پر پانی کی سطح کم ہوئی ہے اور اب درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے چناب کے سیلابی ریلے نے سیکڑوں بستیاں اجاڑ دی۔
جھنگ میں چناب دریا کے پانی میں ڈوبنے والے والی بستیوں کے مکین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی مال مویشی لیے بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ صرف جھنگ ضلع میں بیس ہزار سے زائد افراد ایسے ہیں جن کے گھر بار سیلابی پانی میں ڈوبے چکے ہیں۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ جھنگ کا دعوی ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے عارضی رہائش کے ساتھ ساتھ جانوروں کے چارے کا انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ، جلال پورپیروالہ میں بھی دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر تحصیل انتظامیہ کیجانب نے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ دریائے ستلج کے قریبی علاقوں کو فوری خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر جلال پور نے کہا کہ دریائے ستلج میں سیلاب سے متعدد علاقے متاثر ہونے کا خدشہ، دریائے ستلج کے قریب آباد لوگ محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں، سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔