ویب ڈیسک: مودی سرکار کی آبی جارحیت کے بعد پنجاب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ سندھ میں بھی سُپر فلڈ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گڈو بیراج پر پانچ سے چھ ستمبر تک 8 تا 11 لاکھ کیوسک ریلا متوقع ہے جو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا کرے گا۔ جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے سپر فلڈ کی تیاری کر لی ہے۔ انتظامیہ کو نقشے دے دیے گئے ہیں۔ پاک بحریہ کی ہنگامی امدادی ٹیمیں دائیں اور بائیں کناروں پر پہنچ چکی ہیں۔ پرائیویٹ کشتیاں بھی کرائے پر لینے کےلیے کہہ دیا گیا ہے۔ ہماری کوشش جانی نقصان سے بچنے کی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ 948 ریلیف کیمپ لگانے کی تیاری کرلی گئی ہے، موبائل ہیلتھ یونٹ متحرک ہیں۔ میڈیکل کیمپوں پر سانپ کے کاٹنے کے ویکسین سمیت تمام ادویات موجود ہیں۔ لوگ جتنے دن کیمپوں میں رہیں گے تو ان کو پکا ہوا کھانا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے انسانی جانوں اور مال مویشیوں کو بچانا ہے، اس کے بعد تینوں بیراجوں کو بچانا ہے، حکمت عملی طے کرلی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ کتنا پانی سندھ پہنچے گا۔ پنجاب کے دریاوں کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ تریموں بیراج پر آنے والا ریلا سب سے پہلے سندھ پہنچے گا۔ تریموں سے پنجنند تک پانی پہنچنے میں 5 دن لگیں گے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ آج رات کو کسی وقت ٹریموں انتہائی اونچی حد تک پہنچ جائے گا۔ تریموں کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوگا کہ ہمارے پاس کتنا پانی آئے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم میپنگ کی ہوئی ہے کہ اگر پانچ سے سات لاکھ پانی آ جاتا ہے تو کتنے دیہات خالی کرانے ہیں۔ 7 سے 9 لاکھ اور اس سے بھی زیادہ پانی آنے کی صورت میں کتنے دیہات متاثر ہوں گے۔ ان دیہات کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ پانی 9 لاکھ سے اوپر گیا تو 2 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوں گے۔