ایس ایم تنویر کا شرح سود 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ 

ایس ایم تنویر کا شرح سود 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ 

(ویب ڈیسک ) یو بی جی کے پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر نے اگست 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں نمایاں کمی کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شرح سود کو کم کرکے کم از کم 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ایس ایم تنویر کا کہنا ہے کہ  مہنگائی کی شرح میں کمی کے بعد شرح سود میں کمی کے مطالبے زور پکڑتے جا رہے ہیں اور معاشی ماہرین و کاروباری حلقے موجودہ بلند شرح سود کو غیر منطقی قرار دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  جب مہنگائی قابو میں ہے تو اسٹیٹ بینک کی جانب سے 11 فیصد کی بلند شرح سود برقرار رکھنا قابلِ جواز نہیں رہا۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ حقیقی شرح سود (Real Interest Rate) کا بہت زیادہ ہونا صنعتوں اور معیشت کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ شرح سود کو کم کرکے 6 فیصد تک لانے سے صنعتی سرگرمیاں بحال ہوں گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں مسابقت بڑھے گی، حکومتی قرضوں کا بوجھ کم ہوگا اور سرمایہ کاری کے لیے اعتماد بحال ہوگا۔

ایس ایم تنویر نے زور دیا کہ اسٹیٹ بینک فوری اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ  ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو کم از کم 6 فیصد تک لانے کے لیے فوری قدم اٹھائے۔ یہ اقدام صنعتی ترقی، روزگار، برآمدات اور کاروباری اعتماد کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

انہوں نے پاکستان بھر کی چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں اور کاروباری رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ یکجا ہو کر ایسی معاشی پالیسی کے لیے آواز بلند کریں جو عوام، صنعت اور معیشت کے مفاد میں ہو۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ جب ملک معاشی کامیابی کے سنگ میل تک پہنچا ہے، تو اب نظریں اسٹیٹ بینک اور حکومت پر ہیں کہ کیا وہ معیشت کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں گے یا نہیں۔

Watch Live Public News