ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کاروباری اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.12 فیصد اضافے کے بعد یہ 90.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 3.1 فیصد مہنگا ہو کر 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے یا اس میں مزید اضافے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خطہ دنیا میں تیل کی فراہمی کا اہم مرکز ہے، اس لیے امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی فوجی یا سفارتی تناؤ کے عالمی توانائی کی منڈی پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز یا خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے مہنگائی پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ عالمی قیمتوں میں اضافے سے مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان ہے۔