ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔
بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 5.34 فیصد اضافے کے بعد 80.07 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 5.24 فیصد اضافے کے ساتھ 75.15 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی بحری کارگو پر امریکا کو 20 فیصد فیس ادا کرنا ہوگی۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ ایران کی اجازت کے بغیر کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ادھر اقوام متحدہ کے بحری امور کے ادارے نے ٹرمپ کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں پر لازمی فیس عائد کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث تیل برآمد اور درآمد کرنے والے ممالک متبادل راستوں پر انحصار بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ گولڈمین سیکس کے مطابق خلیجی ممالک 2028 تک پائپ لائنوں کی گنجائش بڑھا کر اپنی تیل برآمدات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز پر انحصار کیے بغیر منتقل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔