ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مقاصد کے مکمل حصول تک ایران کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی اور آئندہ دو سے تین ہفتوں میں حملوں کی شدت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
قوم سے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج بہت جلد اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر لے گی، ایران کے خلاف جاری آپریشن کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے اور گزشتہ چار ہفتوں کے دوران فیصلہ کن کارروائیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ کئی اہم رہنما بھی مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو بھی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے اور اب وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کے بقول جنگ کا مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور ایران اب بڑا خطرہ نہیں رہا، تاہم اسٹریٹجک مقاصد کی مکمل تکمیل تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا عندیہ دیا اور ایرانی حکومت پر 45 ہزار مظاہرین کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا، تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتا رہا ہے، تاہم اب جنگ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں، اور تنازع کے خاتمے کے بعد یہ گزرگاہ خود بخود کھل جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کو اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ان ممالک کو کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے پرعزم ہے۔
تیل کی قیمتوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی ممالک بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم امریکا اب توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے اور وینزویلا کے بعد مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کم ہو گیا ہے۔