(ویب ڈیسک) بھارتی سیاحوں کی غیر معمولی تعداد میں اضافہ نے مہمان مملک میں سنگین بحران کو جنم دے رہاہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ناراضگی سامنے آئی ہے کیونکہ بھارتی سیاح مہمان ممالک کے معاشرتی آداب کی پابندی نہیں کرتے ۔
ویتنام 2026:
یونیسکو کی عالمی ورثہ سائٹ ہوئے این میں، سفر کے وی لاگر @viadaksh کی 19–20 مارچ 2026 کی ویڈیو نے رستورانوں کے باہر "No smoking, No Indian" یا "Indians not allowed" کے بورڈز کی نمائش کی تصدیق کی۔ جہاں خواتین سمیت خاندانوں کو محض ان کی بھارتی قومیت کی بنا پر واپس بھیج دیا گیا۔
ایسے ہی بورڈز انکار ڈا نانگ، فو کوک (فروری–مارچ 2026) اور مقامی مارکیٹوں میں بھی ہوئے، جہاں دکانداروں نے غصے میں آ کر بھارتیوں سے کہا "تم بھارتی یہاں آ کر ہمارا وقت ضائع کرتے ہو، یہاں سے جاؤ۔"
ایک یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ اور شمالی ویتنام کا مشہور سیاحتی علاقہ ہا لونگ بے کے کروز پر، بھارتی-امریکی سرمایہ کار ڈیڈی داس نے بتایا جب چھ بھارتی خواتین جو بلند آواز میں بالی وڈ گانے گارہی تھیں، میک اپ کررہی تھیں، سیلفیز لے رہی تھیں اور ایک پورے خاموش لاؤنج کو پریشان کر رہی تھیں۔ یہ معاشرتی آداب کی خلاف ورزی کی کلاسک مثال تھی۔
دیگر مقامات جیسے کےتھائی لینڈ میں سابقہ معاشرتی آداب کی خلاف ورزیوں کی شکایات کے پیش نظر ، جن بھارتی سیاحوں کی قانونی طور پر بکنگ تھی، کو یونا بیچ کلب، پٹایا (جنوری 2026) میں داخلے سے انکار کر دیا گیا، اسٹاف نے کہا "کسی بھارتی کو داخل نہ ہونے دو" ۔ بالی (انڈونیشیا) میں، دکانداروں کو خریداریوں پر ہراسانی اور بھارتی سیاح گروپس کی وجہ سے پریشانی کا سامنا پڑا، جس میں بلند آواز میں گانا اور دکانداروں کی حق تلفی شامل تھی۔
مغربی ممالک میں بھی بھارتی اپنے رویے کی وجہ سے تمام ایشائی ممالک کے رہنے والوں کے لیے شرمندگی اور پریشانی کا باعث ہیں۔ ایگوازو فالز (برازیل/ارجنٹینا، 2026) میں، دہلی کے ایک گروہ نے "انڈیا! انڈیا!" کے نعرے لگا کر ہنگامہ کیا اور قطاروں کو متاثر کیا۔ فن لینڈ کی ٹرینوں میں بلند آواز میں بات چیت اور ویڈیو کالز مسافروں کو پریشان کر رہی تھیں، جبکہ سوئس آلپس، لندن اور یورپی یادگاروں میں شور مچانا، دھکیلنا اور کوڑا پھینکنا معمول بن چکا ہے۔
بیرون ممالک تو بیرون ممالک بھارت کے اندر بھی، 2025–2026 میں ہماچل پردیش کے کاسول اور بر میں کیفے نے "Indians not allowed" کے بورڈز آویزاں کیے۔
بار بار شرمناک رویے:
- رستورانوں، سوئمنگ پولز، کروز اور خاموش زونز میں بالی وڈ گانے بجانا اور بلند آواز میں بات کرنا۔
- مقررہ قیمت والے مقامات پر جارحانہ سودابازی، جس سے بدتمیز بحثیں ہوتی ہیں۔
- کم خرچ کرنے والے بڑے گروہ ہوٹلز کے ٹیبلز پر قبضہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور بعد میں آنے والے کسٹمر کو جگہ نہیں دی جاتی۔
- صفائی کے مسائل، قطار کو چھوڑنا، کچرا پھینکنا، اور زہر آلود رویہ "میں نے پیسہ دیا ہے، تو میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔"
ویتنام، تھائی لینڈ اور دیگر مقامات پر مقامی کاروباری مالکان اب کھل کر جواب دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے پرامن ماحول اور بہتر رویہ رکھنے والے، زیادہ خرچ کرنے والے سیاحوں (یورپی، کوریائی، جاپانی، مقامی) کی آمدنی کو محفوظ رکھ سکیں۔
عالمی سطح پر بھارت مخالف جذبات میں اضافہ ایک تنبیہ ہے۔ یہ مودی حکومت کی ناکامی ہے کہ سیاحوں کو مقامی روایات اور ایس او پیز کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی تربیت اور رہنمائی فراہم نہیں کی۔