ویب ڈیسک: وزیرمملکت برائے قومی ثقافت و ورثہ حذیفہ رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی نے خود ملک سے باہر جانے کی درخواست کی تھی، جسے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کو اب تک خفیہ رکھا تھا، مگر اب قوم کو حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہو چکا ہے۔
پبلک نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے پیشکش کی تھی کہ اگر کوئی ڈیل کرنی ہے تو انہیں برطانیہ یا یورپی ملک میں بھیج دیا جائے۔ ان کے مطابق، برطانوی حکومت نے بھی باضابطہ طور پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ اگر پی ٹی آئی بانی کو ان کے حوالے کیا جائے تو وہ تیار ہیں۔
بانی پی ٹی آئی نے ہم سے بات کی، ہم نے اور اسٹیبلمنٹ نے ظرف کا مظاہرہ کیا، اور ہم نے یہ بات آج تک نہیں بتائی، بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا، اگر مجھ سے ڈیل کرنی ہے تو مجھے برطانیہ یا یورپ بھیج دیں، اور برطانیہ گورنمنٹ نے آفیشلی اس بات کو کہا کہ ٹھیک ہے ہمارے حوالے کریں، اُس کے بعد ہم… pic.twitter.com/JUlQsUmlBO
— Public News (@PublicNews_Com) August 1, 2025
وزیرمملکت نے کہا کہ اس کے جواب میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے واضح کیا کہ ہم آپ کو یورپ یا برطانیہ نہیں بھیج سکتے، تاہم گلف کے کسی ملک میں جانے کی پیشکش ضرور کی گئی۔ تاہم بانی پی ٹی آئی نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی اور بعد ازاں یہ مؤقف اپنایا کہ انہیں جلا وطن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حذیفہ رحمان نے دعویٰ کیا کہ اس ساری گفتگو اور پیشکش کے ثبوت موجود ہیں، اور حکومت چاہے تو اس کی ریکارڈنگ بھی منظر عام پر لا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے خاموشی اختیار کی تھی، لیکن اب بانی پی ٹی آئی کے بیانیے کے پیشِ نظر سچ عوام کے سامنے رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔