ویب ڈیسک: پاکستان نے غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جس کے بعد ہزاروں افغان باشندے چمن بارڈر کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔ حکومتی حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد مہاجرین کی باعزت اور منظم واپسی کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات پر خیبرپختونخوا حکومت نے ”پروف آف رجسٹریشن“ (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کو فوری طور پر وطن واپسی کا نوٹس جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق پی او آر کارڈز کی مدت 30 جون 2025 کو ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد یہ افراد قانونی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ یہ افراد پشاور یا لنڈی کوتل کے ٹرانزٹ پوائنٹس پر پہنچیں تاکہ واپسی کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
بلوچستان میں بھی انخلا کی نئی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ چمن میں تعینات حکام کے مطابق 4 سے 5 ہزار افغان شہری سرحد عبور کرنے کے منتظر ہیں، جبکہ قندھار میں رجسٹریشن حکام نے مہاجرین کی واپسی میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب، بغیر ویزا داخلے پر بھی پابندی سخت کر دی گئی ہے۔ وزارت تجارت کے مطابق اب صرف ویزا رکھنے والے افغان ڈرائیور ہی سرحدی تجارتی پوائنٹس سے داخل ہو سکیں گے، البتہ عارضی اجازت نامہ رکھنے والے ٹرک 31 اگست تک کام جاری رکھ سکیں گے۔
کوئٹہ میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق مہلت ختم ہونے کے بعد اب سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ یہ مہم 2023 میں شروع ہوئی تھی اور رواں سال اپریل میں مزید سختی کے ساتھ جاری رکھی گئی۔ اب تک 10 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنا اور دہشتگردی کی روک تھام کو مؤثر بنانا ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں بدامنی میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کی طرح ایران بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں اب تک ڈیڑھ ملین افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔