گٹر کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں، اپوزیشن سیاست نہ کرے: ترجمان سندھ حکومت نادر گبول

گٹر کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں، اپوزیشن سیاست نہ کرے: ترجمان سندھ حکومت نادر گبول
کیپشن: گٹر کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں، اپوزیشن سیاست نہ کرے: ترجمان سندھ حکومت نادر گبول

ویب ڈیسک: ترجمان سندھ حکومت نادر نبیل گبول نے کہا ہے کہ شہر میں گٹر کے ڈھکن لگائے جاتے ہیں لیکن انہیں نشہ کرنے والے افراد چوری کر لیتے ہیں، اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے بلکہ مل کر مسائل کے حل کی کوشش کی جائے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نادر گبول نے نیپا کے حالیہ واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس شخص کی غفلت ثابت ہوئی اسے سخت سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ تمام شہری مسائل کے لیے ایک ون ونڈو آپریشن ہو تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ترجمان سندھ حکومت نے مزید کہا کہ ٹاؤنز کو مقامی ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے اور وہ انہی فنڈز سے ترقیاتی کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سوئی سدرن گیس نے لیاری ٹاؤن کو روڈ کٹنگ کے بدلے ڈیڑھ ارب روپے دیے جبکہ گلشن ٹاؤن کو بھی اربوں روپے ملے ہیں۔

 حادثے کی جگہ پر 3 سال سے کھدائی ہورہی ہے: امیر جماعت اسلامی کراچی

پروگرام میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا کہ جائے حادثہ کے قریب شاہراہ پر گزشتہ 3 سال سے کھدائی ہورہی ہے جہاں بی آر ٹی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ٹاؤن چیئرمین کی ذمہ داری نہیں تھی، پھر بھی جماعت اسلامی کے چیئرمین اور کونسلرز موقع پر موجود رہے۔

منعم ظفر کے مطابق انہوں نے اپنے وسائل سے 30 ہزار مین ہول کورز تیار کر کے لگائے۔ بچے کی لاش 15 گھنٹے بعد نکالی گئی، جبکہ عوام نے چندہ جمع کر کے شاول اور ڈیزل کا انتظام کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرتضیٰ وہاب اور دیگر افسران کو بارہا فون کیا گیا لیکن کوئی رات کو موقع پر نہیں پہنچا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کا کوئی منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوتا، شہر میں پارکنگ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور بڑھے ہوئے پلازوں میں بھی پارکنگ کا انتظام نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم کے باوجود اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے گئے۔ ٹاؤنز کو صرف تنخواہوں کے اخراجات ملتے ہیں جبکہ ترقیاتی فنڈ صوبائی حکومت یا کے ایم سی فراہم نہیں کرتی۔ ایس ایس جی سی کی جانب سے ملنے والے روڈ کٹنگ فنڈ سے 600 گلیوں میں کام شروع کیا گیا ہے جن میں سے 300 مکمل ہو چکی ہیں۔

منعم ظفر کے مطابق گلشن ٹاؤن میں سوئی سدرن نے ایک ماہ قبل کام شروع کیا تھا، تاہم اب تک فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔

Watch Live Public News