ویب ڈیسک: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 زیر غور لانے کی تحریک کثرتِ رائے سے منظور۔ تحریک کے حق میں 160، مخالفت میں 79 ووٹ آئے۔ ایوان میں اپوزیشن نے احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔
قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 کی شق وار منظوری جاری ہے۔ بل کی شق 4 میں وزیر قانون و انصاف کی ترمیم کثرت رائے سے منظور۔ بل کی شق 10 میں وفاقی وزیر قانون کی ترمیم کثرتِ رائے سے منظور۔ اپوزیشن کی جانب سے شق 12 میں متعارف کردہ ترمیم بھی کثرتِ رائے سے منظور۔ وفاقی وزیر قانون نے بل کی شق 35 میں ترمیم واپس لے لی۔ شق 35 میں سینیٹر کامران مرتضیٰ کی ترمیم کثرت رائے سے منظور۔
اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی، جہاں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بل پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر کی جانب سے واپس بھیجے گئے اقلیتی حقوق کمیشن بل کو دوبارہ زیرِ غور لایا جائے گا۔وزیر قانون و انصاف نے ایوان میں اپنے خطاب میں کہا کہ بل کے ذریعے اقلیتوں کی آئینی تعریف کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت کے مطابق کسی بھی قانون کی تشکیل ممکن نہیں۔ اس بل میں قادیانیوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا گیا، جس پر جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ نے شق 35 کو حذف کرنے کی تجویز دی، جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے اس بل پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی حقوق کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، لیکن ایسے قوانین نہ لائے جائیں جن سے بعد میں غلط فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر کو قادیانیوں کی چالاکیوں کا اندازہ نہیں ہے اور ایسی قانون سازی سے گریز کرنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اسلام کے خلاف کسی بھی قانون کی تشکیل ممکن نہیں، اور پارلیمنٹ کو اس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں "مینارٹی" کا لفظ موجود نہیں اور اقلیتوں کی حفاظت کے لیے مناسب قانون سازی ہونی چاہیے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے، اور اس میں تمام جمہوری حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عجلت میں کی جانے والی قانون سازی کوئی اچھا پیغام نہیں دیتی۔