لاہور میں بسنت کی رونقیں، پتنگیں اور ڈوریں مہنگےداموں فروخت

لاہور میں بسنت کی رونقیں، پتنگیں اور ڈوریں مہنگےداموں فروخت
کیپشن: لاہور میں بسنت کی رونقیں، پتنگیں اور ڈوریں مہنگےداموں فروخت

ویب ڈیسک: لاہور کی فضاؤں میں ایک بار پھر بسنت کی خوشبو رچ بس گئی ہے اور شہر کے لوگ پتنگ بازی کے جوش میں نظر آ رہے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں اور پتنگوں کی فروخت باقاعدہ شروع ہو چکی ہے۔

تاہم اس سال پتنگوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مارکیٹ میں ہر دکاندار اپنی مرضی کے مطابق قیمتیں وصول کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، شرلا 60 روپے جبکہ پری 90 روپے میں دستیاب ہے۔ دیگر پتنگوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، جہاں آڈا 120 روپے، پونا تاوا 160 روپے اور تاوا 250 سے 300 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔

گذشتہ برسوں کے مقابلے میں تاوا گڈا اور ڈیڑھ تاوا کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے تاوا گڈا 60 روپے میں دستیاب تھا اور ڈیڑھ تاوا 150 سے 200 روپے میں ملتا تھا، لیکن اب یہ 450 سے 600 روپے تک پہنچ چکی ہیں۔

صرف پتنگیں ہی نہیں بلکہ ڈوریں بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ ڈیڑھ پیس کا پنا 8 ہزار سے بڑھ کر 12 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ پابندی کے باوجود 2 پیس کی چرخی 10 ہزار سے 13 ہزار روپے میں دستیاب ہے، جبکہ 4 پیس کی چرخی کی قیمت 13 ہزار سے 25 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پہلے 4 پیس کی اچھی ڈور تقریباً 6 ہزار روپے میں ملتی تھی۔

پتنگ بازوں کا کہنا ہے کہ اگر سستی پتنگیں خریدنی ہوں تو ہری پور، ایبٹ آباد، پشاور اور کوئٹہ کے کاریگروں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، جہاں لاہور کے مقابلے میں قیمتیں کافی کم ہیں۔ تاہم پنجاب حکومت نے عام شہریوں پر دیگر شہروں سے پتنگیں لانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، البتہ لائسنس یافتہ افراد کو دیگر شہروں سے پتنگیں منگوانے اور فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

Watch Live Public News