پاکستان کی الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کی دنیا میں انقلاب لانے کی تیاری

پاکستان کی الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کی دنیا میں انقلاب لانے کی تیاری
کیپشن: پاکستان کی الیکٹرانک مینوفیکچرنگ کی دنیا میں انقلاب لانے کی تیاری

ویب ڈیسک: موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی برائے مدت 2026 تا 2033 کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اسے وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت بنیادی اسمبلنگ سے مکمل پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی جانب اسٹریٹجک تبدیلی کی گئی ہے۔

اجلاس کو پالیسی کی اہم خصوصیات پر بریفنگ دی گئی، جس میں موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک آلات شامل ہیں۔ معاون خصوصی برائے وزیراعظم ہارون اختر خان نے بتایا کہ یہ پالیسی تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد پاکستان کے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا ہے۔

پالیسی کا ہدف ملکی سطح پر مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو فروغ دینا ہے، جس کے لیے عالمی برانڈز کو پاکستان میں پیداواری یونٹس قائم کرنے کی ترغیب دی جائے گی، جبکہ مقامی برانڈز کو اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور مستحکم کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ پالیسی میں مرحلہ وار مینوفیکچرنگ اہداف اور ٹائم لائنز واضح طور پر متعین کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اسمبلنگ سے مینوفیکچرنگ کی جانب منتقلی کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ پائیدار معاشی ترقی کا براہِ راست تعلق مقامی پیداواری صلاحیت کے استحکام اور پاکستان کو عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے سے ہے۔

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے مطابق اس پالیسی کے تحت 2033 تک موبائل فون مینوفیکچرنگ میں 50 فیصد لوکلائزیشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ منظم نظام کے ذریعے 70 فیصد ای ویسٹ (الیکٹرانک کچرا) کی ریکوری اور صنعتی ترقی و ماحولیاتی پائیداری کے لیے 50 ہزار ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کا بھی ہدف رکھا گیا ہے، جن میں 15 ہزار خصوصی مہارت رکھنے والے افراد شامل ہوں گے۔

Watch Live Public News