ویب ڈیسک: اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے قیام کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران زراعت، لائیوسٹاک اور بلیو اکانومی کے شعبوں میں قابلِ ذکر انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پبلک اور پرائیویٹ شراکت داری، سمارٹ فارمنگ، اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے نہ صرف ان شعبوں کو نئی توانائی بخشی بلکہ پاکستان کی معیشت میں بھی مثبت رجحان پیدا کیا۔بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانا، کسانوں کو براہِ راست مالی رسائی دینا، اور سمارٹ فارمنگ جیسے اقدامات زراعت کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوئے۔
نہروں کی صفائی اور پانی کی منصفانہ ترسیل نے زرعی شعبے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی، لائیوسٹاک، فشریز اور بلیو اکانومی میں بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوئیں،یہ کامیابیاں ایس آئی ایف سی کی دو سالہ حکمت عملی، مربوط پالیسیوں اور قومی ترقی کے جذبے کی غماز ہیں، جو پاکستان کے زرعی شعبے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہیں۔
آئیے، اس رپورٹ میں دیکھتے ہیں ایس آئی ایف سی کی دو سالہ حکمت عملی اور نتائج کی جھلک۔