ویب ڈیسک: ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا پہلے سے ریکارڈ کیا گیا انٹرویو دورانِ نشریات اچانک روک دیا، جس کے بعد پارلیمنٹ کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور سوشل میڈیا پر انٹرویو کے سیاسی طور پر حساس حصوں کی ممکنہ سنسرشپ سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے صدا و سیما (آئی آر آئی بی) کی جانب سے نشر کیے جانے والے انٹرویو کے اچانک منقطع ہونے پر قالیباف کی ٹیم نے بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔
پارلیمنٹ کے میڈیا سینٹر کے مطابق انٹرویو نشریات سے دو گھنٹے قبل سرکاری ٹی وی کے حوالے کر دیا گیا تھا، اس لیے اگر کسی حصے کو نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔
رپورٹس کے مطابق انٹرویو اس وقت منقطع ہوا جب محمد باقر قالیباف بیرونِ ملک موجود ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی کے طریقہ کار پر گفتگو کر رہے تھے۔ نشریات کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی گفتگو اچانک رک گئی، چند لمحوں کے لیے اسکرین سیاہ ہو گئی اور بعد ازاں چینل نے دیگر پروگرام نشر کرنا شروع کر دیے۔
پارلیمانی میڈیا سینٹر کا کہنا ہے کہ نشر نہ کیے گئے حصوں میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنے، ایران کے منجمد اثاثے، تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل، جنگ، آبنائے ہرمز اور امریکا سے مذاکرات جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے سنسرشپ کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ انٹرویو کو پہلے ہی دو اقساط میں نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ادارے کے مطابق پہلی قسط کے اختتام پر اسکرین پر چلنے والی پٹی (ٹکر) میں ناظرین کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ انٹرویو کا دوسرا حصہ بدھ کو نشر کیا جائے گا۔