ویب ڈیسک: منی پور ایک بار پھر آگ سے جل اٹھا, تازہ پرتشدد واقعات کے نتیجے میں دو افراد ہلاک، کامجونگ میں سترہ گھر نذرِ آتش۔
بھارتی میڈیا کے مطابق برسوں کی فرقہ وارانہ کشیدگی اور غفلت نے مسلسل بدامنی کو جنم دیا۔ رواں سال ریاست بھر میں تیس سے زائد تشدد کے واقعات پیش آئے۔ پولیس کی استعداد مسلسل بحرانوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار رہی۔ دہلی قیادت نے محدود نیم فوجی نفری بھیجی،جس نے مؤثر کارروائی نہ کی۔ تقریباً چار سو افراد متاثر، ایک سو بیس سے زائد بے گھر ہوئے۔ عوامی اعتماد مجروح، حکومتی بحران محض بیانات سے ختم نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق مودی حکومت کا منی پور میں کنٹرول عملاً ختم ہو چکا ہے ۔ مودی حکومت کی سخت گیر اقدامات منی پور میں حالات قابو لانے کے بجائے مزید خراب کر رہے ۔ منی پور پر عالمی برادری کی خاموشی معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی ہے ۔ منی پور میں تازہ تشدد کے واقعات پر مودی حکومت سے فوری جوابدہی اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
ماہرین کے مطابق منی پور میں علیحدگی پسند عناصر مودی حکومت کے مظالم کے خلاف ا ٹھ کھڑے ہیں ۔ مودی حکومت پر تشدد کاروائیوں سے اپنے حقوق کے لیے لڑنے والوں کی آواز نہیں دبا سکتی۔