ویب ڈیسک: ممبئی ایئرپورٹ پر کسٹمز حکام نے ایک حیران کن کارروائی کے دوران درجنوں زہریلے سانپ برآمد کر لیے، جو ایک مسافر بیرون ملک سے بھارت اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تھائی لینڈ سے آنے والے ایک بھارتی مسافر کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ کسٹمز اہلکاروں کو مشکوک بیگز کی جانچ کے دوران انکشاف ہوا کہ ان میں مختلف اقسام کے سانپ چھپائے گئے تھے، جن میں انتہائی زہریلی وائپر نسل کے سانپ بھی شامل تھے۔
علاوہ ازیں، مسافر کے قبضے سے پانچ ایشیائی نسل کے کچھوے بھی برآمد ہوئے، جو نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع میں شمار ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق مسافر کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم اس کی مزید شناخت یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
پولیس نے ضبط شدہ سانپوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں مختلف رنگوں کے سانپوں کو ایک برتن میں رینگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سانپوں کی اسمگلنگ ایک غیر معمولی واقعہ ہے، کیونکہ عموماً ایئرپورٹس پر سونا یا نشہ آور اشیاء اسمگل کرنے کی کوششیں سامنے آتی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارت کے ہوائی اڈوں پر غیرقانونی جانوروں کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی گئی ہو۔ فروری میں بھی ایک مسافر کو پانچ سیامانگ بندروں کے ساتھ پکڑا گیا تھا، جبکہ گزشتہ برس مختلف کارروائیوں میں کچھوے، ہارن بل پرندے اور مگرمچھ کی نسل کے کیمین بچے بھی برآمد کیے گئے تھے۔
حکام نے اس واقعے کو خطرناک اور ماحولیاتی نظام کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے مزید تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔