(ویب ڈیسک ) مودی حکومت کی اقلیت مخالف پالیسیاں، ریاستی دہشت گردی، اور بیرون ملک قتل جیسے واقعات عالمی سطح پر بھارت کی تنہائی اور G7 جیسے فورمز سے اس کی ممکنہ بےدخلی کا سبب بن رہے ہیں۔
مودی کی G7 اجلاس شمولیت کینیڈا کے آئینی وقار کے منافی ہے، کیونکہ وہ ایسے افراد کا محافظ ہے جو غیرملکی سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔
2023 میں سکھ کارکن نجر کی ہلاکت پر ٹروڈو نے بھارتی حکومت کو ذمے دار قرار دیا، جس سے عالمی ضمیر جھنجھوڑا گیا۔کینیڈین تحقیقاتی ادارے بھارت سے جڑے خفیہ آپریشنز کا سراغ لگا چکے ہیں، جن کے تحت سکھ کارکنوں کی نگرانی اور ٹارگٹڈ کارروائیاں ہوئیں۔
بھارت کو G7 میں ابھی تک نہ بلانا اس حقیقت کا عکاس ہے کہ دنیا ہندوتوا اثرات اور غیرقانونی مداخلتوں سے محتاط ہو چکی ہے۔انسانی حقوق گروہوں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کو عالمی فورمز پر اس وقت تک جگہ نہ دی جائے جب تک وہ شفاف جوابدہی یقینی نہ بنائے۔
ٹروڈو کے 2018 کے بھارت دورے میں مودی کی جانب سے رسمی برتاؤ سے گریز اس سیاسی تعصب کو ظاہر کرتا ہے جو مذہبی اقلیتوں کے خلاف پایا جاتا ہے۔دیگر عالمی رہنماؤں کے برعکس، ٹروڈو کا استقبال نچلے درجے کے اہلکاروں نے کیا، جو سفارتی آداب کی خلاف ورزی اور غیرجانبداری کے فقدان کی مثال ہے۔
سکھ قوم نے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہنماؤں کو عزت نہ دی جائے۔عالمی انٹیلیجنس رپورٹس میں بھارت کی بیرونی مداخلت کا ذکر ہے، جس سے دیگر ملکوں کی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔ اقلیتوں کی آواز دبانے والے رہنماؤں کو عالمی مقام دینا جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔
کینیڈا میں سکھ تنظیموں نے مشترکہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایسے عناصر کو عالمی پلیٹ فارمز پر جگہ دینا مہلک نتائج کا باعث بنے گا۔بھارتی پروپیگنڈے میں خالصتان کے حامیوں کو شدت پسند بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ محض سیاسی آزادی کے خواہاں ہیں۔
بھارت کی G7اجلاس میں شمولیت پر بین الاقوامی سطح پر سکھ برادری میں بے چینی پای جا رہی ہے جو کہ بھارت کی جارحانہ سفارت کاری، فرقہ وارانہ ذہنیت، اور بیرون ملک گروہوں پر اثرانداز ہونے کی پالیسیوں سے پیدا ہو رہی ہے۔
کینیڈین پریس کے مطابق، بھارت کے غیرسنجیدہ رویے اور کینیڈین شہری کے قتل کی تفتیش میں رکاوٹ کی وجہ سے G7 دعوت نامہ تاحال معطل ہے۔ سکھ فیڈریشن سمیت کئی تنظیموں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایسے لیڈر کی کینیڈا آمد کو تسلیم نہیں کریں گے جو آزادی رائے کا دشمن ہو۔
بھارت کی سفارتی پسپائی دراصل اس کی اندرونی ناکامیوں کا ایک دوسرا رخ ہے۔ جو اب عالمی سطح پر بےنقاب ہو چکا ہے۔