بھارت میں سرحدی جبر: قومی سلامتی کو ہتھیار بنا کر سرحدی ریاست کی اقلیتوں کو دبانا

بھارت میں سرحدی جبر: قومی سلامتی کو ہتھیار بنا کر سرحدی ریاست کی اقلیتوں کو دبانا
کیپشن: بھارت میں سرحدی جبر: قومی سلامتی کو ہتھیار بنا کر سرحدی ریاست کی اقلیتوں کو دبانا

ویب ڈیسک: سرحدی سلامتی کو اپوزیشن اور اقلیتوں کو دبانے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا؛ پنجاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا نیا کھیل ہے۔
وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) کی جانب سے بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے دائرۂ اختیار کو پنجاب میں 15 کلومیٹر سے بڑھا کر 50 کلومیٹر تک کرنے کا نوٹیفکیشن براہِ راست ریاستی قانون ساز حدود میں مداخلت ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر وفاقی فورسز سینکڑوں سرحدی دیہات کو متوازی تلاشی، ضبطی اور نگرانی کے نظام کے تابع کر رہی ہیں۔ یہ ساختی توسیع منتخب ریاستی پولیس کے نظام کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک سیاسی طور پر خودمختار آبادی پر عملاً مرکزی سیکیورٹی کا نظام قائم کرتی ہے۔

سرحدی نفاذ کے آلات کو بیرونی نگرانی کے بجائے مقامی زرعی برادریوں اور اختلافی صوبائی آوازوں کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پنجاب کے انتخابات سے قبل سرحدی دیہات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

Watch Live Public News