مودی کےیاربھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کےخلاف امریکا میں نئی تحقیقات کا آغاز

مودی کےیاربھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کےخلاف امریکا میں نئی تحقیقات کا آغاز
کیپشن: مودی کےیاربھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کےخلاف امریکا میں نئی تحقیقات کا آغاز

ویب ڈیسک: امریکی پراسیکیوٹرز اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا بھارتی ارب پتی تاجر گوتم اڈانی کی کمپنیوں نے ایران سے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) بھارت میں اپنی بندرگاہ مندرہ کے ذریعے درآمد کی ہے، وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) نے پیر کو رپورٹ کیا۔

تفصیلات کے مطابق اڈانی گروپ نے اس رپورٹ کو "بے بنیاد اور شرارت پر مبنی" قرار دیا ہے۔WSJ کی تحقیق میں ان جہازوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بھارتی ریاست گجرات میں واقع مندرہ اور خلیج فارس کے درمیان سفر کرتے رہے اور ان میں وہ علامات پائی گئیں جو ماہرین کے مطابق پابندیوں سے بچنے والے جہازوں میں عام ہوتی ہیں۔

WSJ نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی محکمہ انصاف ان متعدد ایل پی جی ٹینکروں کی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہا ہے جن سے اڈانی انٹرپرائزز کو مال سپلائی کیا گیا۔

بین الاقوامی  میڈیا ایجنسی نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔

اڈانی گروپ کے ترجمان نے WSJ کو بیان میں کہا کہ اڈانی کسی بھی قسم کی پابندیوں سے بچنے یا ایرانی نژاد ایل پی جی کی تجارت میں دانستہ طور پر ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ مزید برآں، ہمیں امریکی حکام کی طرف سے اس معاملے پر کسی بھی تحقیقات کا علم نہیں۔"

امریکی محکمہ انصاف، اٹارنی آفس برائے بروکلین اور اڈانی گروپ نے بین الاقوامی  میڈیا ایجنسی کی طرف سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ ایران سے تیل یا پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی تمام خریداری بند ہونی چاہیے، اور جو بھی ملک یا فرد ایسا کرے گا، اسے امریکی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اڈانی پر اس سے قبل بھی امریکی حکام کی جانب سے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں، جن میں ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کے ساتھ مل کر بجلی کی فراہمی کے معاہدے حاصل کرنے کے لیے مبینہ رشوت دینا اور امریکامیں سرمایہ اکٹھا کرنے کے دوران سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنا شامل ہے۔

اڈانی گروپ ان الزامات کو "بے بنیاد" قرار دے چکا ہے اور کہا ہے کہ وہ "تمام ممکنہ قانونی راستے اختیار کرے گا"۔

Watch Live Public News