بجٹ 2025-26:تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف،آئی ایم ایف سے بڑی خبرآگئی

بجٹ 2025-26:تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف،آئی ایم ایف سے بڑی خبرآگئی
کیپشن: بجٹ 2025-26:تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف،آئی ایم ایف سے بڑی خبرآگئی

ویب ڈیسک: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ سے متعلق مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں عالمی مالیاتی ادارے نے دفاعی بجٹ میں اضافے اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں نرمی دینے کے دو بڑے مطالبات مان لیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ موجودہ حالات میں دفاعی ضروریات کو مؤخر کرنا ممکن نہیں، جس پر آئی ایم ایف نے پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے دفاعی اخراجات میں مطلوبہ اضافے کی اجازت دے دی۔

اسی دوران، حکومت کو تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں نرمی سے متعلق بھی بڑی رعایت حاصل ہوئی ہے۔ آئندہ مالی سال میں مختلف تنخواہی سلیبز پر ٹیکس کی شرح میں کمی متوقع ہے، جس سے ملازمین کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔

ذرائع کے مطابق، انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترامیم کی جائیں گی، اور ٹیکس فری آمدن کی سالانہ حد چھ لاکھ سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس حساب سے ماہانہ 83 ہزار روپے تک کی آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہو سکتی ہے۔

مزید مجوزہ تجاویز درج ذیل ہیں:۔

ماہانہ 1 لاکھ روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 5% سے گھٹاکر 2.5% کی جا سکتی ہے۔
ماہانہ 1.83 لاکھ روپے آمدن پر شرح 15% سے کم ہوکر 12.5% ہو سکتی ہے۔
2.67 لاکھ روپے ماہانہ پر انکم ٹیکس کی شرح 25% سے گھٹاکر 22.5% کی جا سکتی ہے۔
3.33 لاکھ روپے ماہانہ تک کی آمدن پر ٹیکس 30% کے بجائے 27.5% ہو سکتا ہے۔
3.33 لاکھ سے زائد آمدن پر ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 35% کے بجائے 32.5% کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق، حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ دیگر تمام اقتصادی اہداف اور اصلاحات پر ادارے کی شرائط کے مطابق مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

یہ اقدامات آئی ایم ایف کی جانب سے اقتصادی بہتری کے روڈمیپ پر اعتماد کا مظہر ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کو مالیاتی اور دفاعی استحکام کی جانب ایک اہم قدم اٹھانے کا موقع ملا ہے۔

Watch Live Public News