ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، جنگ کے چوتھے روز تک فضائی بحران سنگین شکل اختیار کرگیا۔چار دن میں مشرقِ وسطیٰ کے 7 بڑے ایئرپورٹس پر 9 ہزار 500 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 28 فروری کو 1400 سے زائد، یکم اور 2 مارچ کو 3400، 3 مارچ کو 1300 پروازیں منسوخ ہوئیں۔اوسطاً 160 مسافر فی پرواز کے حساب سے 15 لاکھ سے زائد مسافر متاثرہوئے۔ تین روز میں خطے بھر میں تقریباً 10 ہزار پروازیں منسوخ ہونے کی رپورٹ ہے۔ ایران، امارات، قطر، بحرین، کویت، عراق، شام، اردن اور اسرائیل کی فضائی حدود بند ہے۔پیر کو بھی لگ بھگ 3500 پروازیں شیڈول سے منسوخ ہوئیں۔
دوسری جانب لبنان کی فضائی حدود جزوی بحال کردی گئی ہے۔ بیروت ایئرپورٹ سے 34 پروازیں آپریٹ ہوئیں۔
پاکستان سے مشرق وسطیٰ فلائٹ آپریشن تیسرے روز بھی معطل ہے۔منسوخ پاکستانی پروازوں کی تعداد 500 تک پہنچ گئی۔ پیر کو پاکستان سے مشرق وسطیٰ کی مزید 174 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت بڑے شہروں سے دبئی، دوحہ، ابوظہبی، ریاض، کویت کی پروازیں منسوخ ہوئیں۔
مالی نقصان کا تخمینہ
اوسطاً ایک بین الاقوامی پرواز منسوخی پر 1 سے 1.5 لاکھ ڈالر تک نقصان ہوتا ہے۔9500 پروازوں کی منسوخی سے ائیرلائنز کو تقریباً 95 کروڑ سے 1.4 ارب ڈالر تک ممکنہ نقصان ہوچکا ہے۔ مسافروں کو ٹکٹ ریفنڈ، ہوٹل اور متبادل انتظامات کی مد میں کروڑوں ڈالر اضافی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔ کارگو اور ٹرانزٹ حب متاثر ہونے سے خلیجی معیشت پر بھی دباؤ ہے۔