ویب ڈیسک: بھارتی ریاست تامل ناڈو کے ضلع ایروڈ میں چند روز قبل لاپتا ہونے والی 35 سالہ خاتون کی لاش کیلے کے باغ سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس نے قتل کے الزام میں ایک 27 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے ساتھ مقتولہ کے مبینہ تعلقات تھے۔
پولیس کے مطابق، واقعہ گوبی چیٹی پلے یم قصبے کے قریب پیش آیا جہاں مقامی افراد بارش کے بعد جنگلی کھمبیاں چننے گئے تھے۔ دورانِ تلاش انہیں مٹی میں بالوں کے کچھ تار اور خون آلود چاقو نظر آیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے جائے وقوعہ پر کھدائی کی تو تین فٹ گہرے گڑھے سے خاتون کی لاش برآمد ہوئی۔
مقتولہ کی شناخت سونیا کے نام سے ہوئی ہے جو اپاکوڈل قصبے کی رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے بیوٹیشن تھی۔ وہ 2 نومبر سے لاپتا تھی۔ اہلِ خانہ نے اس وقت گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی جب وہ کام سے واپس نہ لوٹی۔ سونیا دو سال قبل بیوہ ہوچکی تھی اور اپنی والدہ، بیٹے اور بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ سونیا کا تعلق موہن کمار نامی شخص سے تھا، جو بی کام گریجویٹ اور اسی باغ کا مالک ہے جہاں لاش ملی۔ پولیس نے مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ سونیا اور موہن کمار کے درمیان گزشتہ دو سال سے تعلقات تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سونیا اکثر اس سے شادی کا مطالبہ کرتی تھی، جس پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور ملزم نے قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق واردات کے دن موہن کمار نے اپنے کھیت میں پہلے سے گڑھا کھودا، پھر شام کے وقت سونیا کو وہاں بلایا۔ کچھ دیر ساتھ رہنے کے بعد اس نے پتھر اور چاقو کے وار سے خاتون کو قتل کر کے لاش کو گڑھے میں دفنا دیا۔ بعد ازاں، اس نے سونیا کا موبائل فون اور کپڑے بھوانی نہر کے قریب پھینک دیے۔
اگلی صبح وہ دوبارہ موقع پر آیا اور پولیس کی تفتیش کے دوران لاعلمی کا مظاہرہ کرتا رہا۔
پولیس نے ریونیو حکام اور پیروندرائی گورنمنٹ میڈیکل کالج کی ٹیم کے ساتھ موقع کا معائنہ کیا اور لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا۔
پولیس کے مطابق، ملزم موہن کمار کو قتل کے الزام میں گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جب کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔