سمندر میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری،بھارت جان لےجواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

 سمندر میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری،بھارت جان لےجواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

(ویب ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چودھری کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چودھری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی قومی پالیسی خود بناتا ہے اور کسی بیرونی دباؤ میں نہیں آتا۔پاک فوج آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی ہے، اور سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے،نہ ہی فوج سیاست میں الجھنا چاہتی ہے،فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک افغان کشیدگی کے دوران 206 افغان طالبان جبکہ 112 فتنہ الخوارج مارے گئے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے امیر نے افغان طالبان کے امیر کے نام پر بیعت کر رکھی ہے، اور اس کے دہشت گرد گروہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، لیکن اب بھی سرحد پار سے دہشت گردی کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور ہر اُس عنصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔بھارت کے عزائم پاکستان کے لیے کسی سے پوشیدہ نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  نے کہا کہ لگتا ہے کہ بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے گا، جس کا مقصد پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانا ہے۔ انڈیا نے زمین، سمندر یا ہوا میں جو کچھ کرنا ہے کرے اس بار جواب پہلے سے زیادہ سخت، شدید اور فیصلہ کن ہوگا۔کچھ ایسے شواہد موجود ہیں کہ بھارت اس بار سمندر کے راستے سے بھی کوئی کارروائی کرسکتا ہے، ہمیں بھارت کی کارروائی سے متعلق پتا ہم مکمل طور پر الرٹ ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ  پاکستان مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ غزہ میں معصوم شہریوں پر مظالم انسانیت کی توہین ہیں، اور عالمی برادری کو فوری جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج ملک کے دفاع، عوام کے تحفظ، اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا، اور پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ  خارجی اپنے ٹھکانے سرحدی علاقوں سے رہائشی علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں، سرحدی علاقوں میں مارے گئے دہشتگردوں میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دوحہ اور استنبول مذاکرات میں ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی، افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ مذاکرات کا ایجنڈا تھا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 6200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیےگئے، آپریشنز کے دوران 1667 خارجی دہشت گرد مارے گئے، ہلاک دہشت گردوں میں 128 افغان باشندے بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ  سیاسی ۔ جرائم پیشہ اور دہشت گردوں پر مشتمل گروپ ملک میں دہشت گردی، جرائم کی ترویج اور اسمگلنگ کی روک تھام میں رکاوٹ ہے ۔ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج  کی خبریں تخیلاتی ہیں اور اگر ایسا کوی فیصلہ ہوا تو حکومت کا دائرہ اختیار ہے ۔

  ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ  تیراہ اور خیبر پختونخواہ  میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کامیابی سے جاری ہیں، تیراہ میں ایسا آپریشن جس سے بڑے پیمانے پر  نقل مکانی ہو اس حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہوا، تیراہ میں بارہ ہزار ایکڑ رقبے پر پوست کی فصل فروخت کے لئے تیار ہوچکی ہے، پوست کی فصل کی قیمت اٹھارہ لاکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ  تیراہ اور دیگر علاقوں میں جب آپریشن کی بات ہو تو سیاسی قوتیں اسکے خلاف آواز اٹھانا شروع کردیتی ہیں، جو سیاسی قوتیں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر  کے خلاف کاروائی پر  آوازیں اٹھاتی ہیں انکی پہچان نمایاں ہیں،2014 میں جب نیشنل ایکشن پروگرام تشکیل دیا  تھا اس وقت مدارس کی تعداد 38 ہزار تھی جو اب بڑھ کر ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے 
مدارس کی رجسٹریشن ابھی بھی ایک سوال ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں عبوری حکومت ہے  جسکو وہاں کے عوام اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، افغانستان کی ترقی خوشحالی کے لئے ایسی حکومت کی ضرورت ہے جسکو خواتین سمیت تمام طبقوں کی حمایت حاصل ہو۔

Watch Live Public News