ڈیزائن میں خامی: 19سالہ طالبہ ہلاک، والدین کا ٹیسلا پر مقدمہ درج

ڈیزائن میں خامی: 19سالہ طالبہ ہلاک، والدین کا ٹیسلا پر مقدمہ درج
کیپشن: ڈیزائن میں خامی: 19سالہ طالبہ ہلاک، والدین کا ٹیسلا پر مقدمہ درج

ویب ڈیسک: امریکا میں پیش آنے والے ایک دلخراش حادثے کے بعد 19 سالہ طالبہ کرسٹا تسکاہارا کے والدین نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی ٹیسلا کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ والدین کا مؤقف ہے کہ کمپنی کی تیار کردہ گاڑی سائبر ٹرک میں ڈیزائن کی خامیوں کے باعث ان کی بیٹی کی جان ضائع ہوئی۔

کیس کی تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ کیلیفورنیا کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب سائبر ٹرک ایک درخت سے ٹکرا گیا۔ حادثے کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم گاڑی کا دروازہ جام ہونے کی وجہ سے کرسٹا تسکاہارا گاڑی سے باہر نہ نکل سکیں اور دھوئیں و آگ کی لپیٹ میں آکر دم توڑ گئیں۔ عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹیسلا کئی برسوں سے اس تکنیکی خامی سے آگاہ تھی مگر اس حوالے سے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

حادثے میں گاڑی میں سوار کل چار افراد متاثر ہوئے جن میں سے تین، بشمول ڈرائیور، ہلاک ہوگئے۔ ایک شخص نے کھڑکی توڑ کر اپنی جان بچالی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، ڈرائیور حادثے کے وقت شراب اور منشیات کے زیرِ اثر تھا، جس نے ٹکر کی شدت کو مزید خطرناک بنا دیا۔

یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے بھی ٹیسلا گاڑیوں کے دروازے جام ہونے اور حادثات کے دوران باہر نہ کھلنے کی شکایات پر باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سے قبل ایک اور مشہور کیس میں فلوریڈا کی جیوری نے ایک مقتول طالب علم کے اہل خانہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ٹیسلا کو 240 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

مبصرین کے مطابق، یہ مقدمہ ٹیسلا کے لیے ایک اور بڑا قانونی چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ کمپنی پہلے ہی اپنی گاڑیوں کی حفاظتی خصوصیات پر تنقید کی زد میں ہے۔ دوسری جانب، ٹیسلا کی انتظامیہ کی جانب سے اس تازہ ترین مقدمے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Watch Live Public News