ویب ڈیسک: دبئی میں پاکستانی قونصلیٹ نے متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں کے لیے ایک معلوماتی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں مقامی لیبر لاز کے تحت ان کے قانونی حقوق اور ذمہ داریوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں ملازمت کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، جن میں تنخواہیں، چھٹیاں، گریجویٹی، اوور ٹائم، استعفیٰ دینے کا طریقہ کار اور کام کی جگہ کے ضابطہ اخلاق شامل ہیں۔ پاکستانی کارکنوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ صرف اس وقت ملازمت کا آغاز کریں جب ان کے پاس باضابطہ ورک پرمٹ موجود ہو۔ ورک پرمٹ فراہم کرنا اور اس کے تمام اخراجات ادا کرنا کفیل (اسپانسرنگ ایمپلائر) کی ذمہ داری ہے۔
متحدہ عرب امارت میں مقيم پاكستانی ورکرز كيلئے UAE labor laws کے حوالے سے بنائی گئئ خصوصی آگاہى ویڈیو !
— Pakistan Embassy UAE (@PakinUAE_) October 2, 2025
Awareness video on UAE labor laws for Pakistani workers residing in the United Arab Emirates pic.twitter.com/dtHc5z8XS6
اہم نکات درج ذیل ہیں:
معاہدہ اور پروبیشن:
متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے معاہدے عموماً دو سال کے ہوتے ہیں اور دونوں فریقین کے دستخط ضروری ہیں۔ پروبیشن پیریڈ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہوسکتا ہے۔ اس دوران اگر آجر (ایمپلوئر) معاہدہ ختم کرے تو 14 دن کا نوٹس دینا ہوگا، جبکہ ملازم کو استعفیٰ دینے کی صورت میں 30 دن کا نوٹس دینا ہوگا۔ بغیر نوٹس کے ملازمت چھوڑنے کی صورت میں ایک سال کی پابندی لگ سکتی ہے۔
کام کے اوقات اور اوور ٹائم:
معمول کے اوقات کار آٹھ گھنٹے یومیہ یا 48 گھنٹے ہفتہ وار ہیں، جبکہ پانچ گھنٹے کا وقفہ لازمی ہے۔ رمضان کے دوران روزانہ چھ گھنٹے ڈیوٹی ہوگی۔ اوور ٹائم کی ادائیگی 25 فیصد اضافی جبکہ رات یا چھٹی کے دن کام کرنے پر 50 فیصد اضافی دی جائے گی۔
تنخواہیں اور چھٹیاں:
اجرت بروقت اور ترجیحاً بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ ملازمین کو 30 دن کی سالانہ چھٹی، 90 دن تک کی بیماری کی چھٹی، 60 دن کی زچگی کی چھٹی، 5 دن کی پدری چھٹی اور 3 سے 5 دن کی سوگ کی چھٹی کا حق حاصل ہے۔
گریجویٹی:
ایک سے پانچ سال تک کام کرنے والے کارکنوں کو ہر سال کے حساب سے 21 دن کی تنخواہ بطور گریجویٹی ملے گی، جبکہ پانچ سال سے زائد کام کرنے والوں کو ہر سال کے حساب سے 30 دن کی تنخواہ ملے گی۔ ایک سال سے کم کام کرنے والے گریجویٹی کے حق دار نہیں ہوں گے۔
استعفیٰ:
ملازمین کو استعفیٰ دینے کے لیے نوٹس دینا لازمی ہے، تاہم اگر انہیں تنخواہ نہ مل رہی ہو یا کام کی جگہ غیر محفوظ ہو تو فوری استعفیٰ دیا جاسکتا ہے۔
آجر کی ذمہ داریاں:
ملازمین کے پاسپورٹ اپنے پاس رکھنا ممنوع ہے۔ صحت بیمہ، رہائش اور بلیو کالر ملازمین کے لیے واپسی کا ٹکٹ فراہم کرنا آجر کی ذمہ داری ہے۔
ملازمین کی ذمہ داریاں:
ملازمین پر لازم ہے کہ وہ ایمانداری اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کریں۔ کسی دوسرے آجر کے ساتھ ملازمت کرنا بغیر اجازت کے ممنوع ہے۔
شکایات درج کرانے کا طریقہ:
ملازمین اگر تنخواہ، گریجویٹی یا پاسپورٹ کے مسائل کا شکار ہوں تو وہ "فسیلیٹیشن سینٹر" سے رجوع کرسکتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں وزارت برائے ہیومن ریسورسز اینڈ ایمریٹائزیشن شکایت سنے گی اور بعد میں معاملہ عدالت میں بھیجا جاسکتا ہے۔