کروشیا: سرکاری فنڈز کا غلط استعمال، سابق وزیر جیل پہنچ گئی

کروشیا: سرکاری فنڈز کا غلط استعمال، سابق وزیر جیل پہنچ گئی
کیپشن: کروشیا: سرکاری فنڈز کا غلط استعمال، سابق وزیر جیل پہنچ گئی

ویب ڈیسک: کروشیا کی سابق وزیر گبریئیلا زالچ کو سرکاری اور یورپی یونین کے فنڈز کے غلط استعمال پر عدالت نے سات ماہ قید کی سزا سنادی ہے۔

 یورپی پبلک پراسیکیوٹرز آفس (ای پی پی او) کے مطابق گبریئیلا زالچ، جو 2019 میں یورپی یونین فنڈز کی وزیر کے طور پر کام کر رہی تھیں، نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے شاہانہ طرزِ زندگی اختیار کیا اور سرکاری رقم کو ذاتی عیاشیوں پر خرچ کیا۔

تحقیقات میں ثابت ہوا کہ زالچ نے کم از کم 9 بار مختلف ریسٹورنٹس میں سرکاری پیسوں سے مہنگے کھانے کھائے، جس پر تقریباً 10 ہزار یورو (یعنی 11 ہزار 700 امریکی ڈالر) خرچ ہوئے۔ اس کے علاوہ مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے اپنی 40ویں سالگرہ کی تقریب کے اخراجات بھی سرکاری فنڈز سے پورے کیے، جس نے اس اسکینڈل کو مزید سنگین بنا دیا۔

تاہم، عدالت میں الزامات ثابت ہونے کے بعد زالچ نے اعتراف جرم کر لیا اور پوری رقم واپس بھی کر دی۔ اس کے باوجود عدالت نے قرار دیا کہ بدعنوانی اور عوامی اعتماد کے غلط استعمال کے نتیجے میں سزا دینا ناگزیر تھا تاکہ دیگر سیاست دانوں کے لیے مثال قائم کی جا سکے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ گبریئیلا زالچ بدعنوانی کے مقدمے میں سزا یافتہ ٹھہری ہوں۔ انہیں 2021 میں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا اور حالیہ برسوں میں ان کے خلاف متعدد کیسز چلتے رہے ہیں۔ رواں سال جون میں بھی انہوں نے اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے ایک اور کیس میں اعتراف جرم کیا تھا، جس پر انہیں دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ 2 لاکھ یورو بطور جزوی معاوضہ ادا کریں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زالچ کا بار بار بدعنوانی کے کیسز میں ملوث ہونا کروشیا کے سیاسی اور حکومتی نظام میں احتساب کے سوالات کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ملک ہونے کے باوجود بار بار سامنے آنے والے کرپشن اسکینڈلز سے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ یورپی اداروں کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔

Watch Live Public News