لاہور میں پی ٹی آئی احتجاج سے قبل کریک ڈاؤن شروع

لاہور میں پی ٹی آئی احتجاج سے قبل کریک ڈاؤن شروع
کیپشن: لاہور میں پی ٹی آئی احتجاج سے قبل کریک ڈاؤن شروع

ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 5 اگست کو شروع کی جانے والی احتجاجی تحریک سے محض ایک روز قبل لاہور کی سیاسی فضا انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں پولیس نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ مختلف علاقوں میں چھاپوں، گرفتاریوں اور سڑکوں پر بھاری نفری کی تعیناتی کے بعد شہر میں غیرمعمولی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق احتجاج کی کال کے پیش نظر پارٹی قیادت کو قابو میں کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات کے تحت پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

 شاہدرہ پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما اکمل خان باری کی رہائش گاہ پر اچانک چھاپہ مارا، تاہم وہ مبینہ طور پر گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے موقع پر موجود ان کے چھوٹے بھائی محمود اللہ خان کو گرفتار کر لیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

اکمل خان باری نے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو پی ٹی آئی کی 5 اگست کی احتجاجی کال سے خوف لاحق ہو چکا ہے اور جاتی امرا کی مبینہ مارشل لا پالیسی کے ذریعے پرامن احتجاج کے دستوری حق کو سلب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت فسطائیت کی تمام حدیں عبور کر چکی ہے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ پولیس اور انتظامیہ کے تمام اقدامات کے باوجود وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں اور کل پورے لاہور سے بڑی تعداد میں کارکن پرامن احتجاج کے لیے باہر نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک نہ صرف بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے بلکہ پارٹی بانی کی رہائی اور حقیقی آزادی کے لیے بھی جدوجہد کا تسلسل ہے۔

ادھر حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں اور کسی کو بھی شہر کا ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Watch Live Public News