ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے خود کو "جمہوریت کی ماں" اور عالمی سافٹ پاور کی علامت کے طور پر پیش کرنے کا بیانیہ اس وقت شدید سوالات کی زد میں آ گیا جب 24 تا 26 جولائی 2026 امریکہ بھر میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور اس سے وابستہ تارکینِ وطن تنظیموں کی قیادت میں بھارتی حکومت کے خلاف مربوط احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
یہ مظاہرے نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو، سان فرانسسکو، فریمونٹ اور ٹائمز اسکوائر سمیت متعدد مقامات پر بھارتی قونصل خانوں اور عوامی مقامات کے باہر منعقد ہوئے، جن میں ہندوز فار ہیومن رائٹس اور دیگر جنوبی ایشیائی تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے بھارتی طلبہ اور سی جے پی کارکنوں کے خلاف مبینہ پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا اور ایسے تعلیمی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جسے انہوں نے امتحانی پرچوں کے مسلسل لیک ہونے، ادارہ جاتی ناکامیوں اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے متاثر قرار دیا۔
مظاہرین نے بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں بھارت کی پالیسیوں اور اسرائیل کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات پر بھی سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے انہیں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے حوالے سے وسیع تر مسائل کی عکاسی قرار دیا۔ ان احتجاجی مظاہروں نے عالمی سطح پر بھارت کے سرکاری بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ حکومت کے خلاف عدم اطمینان اب ملکی سرحدوں سے باہر بھی پھیل چکا ہے۔
ناقدین کا مؤقف تھا کہ بھارتی حکومت کا ابتدائی ردِعمل مسائل کے حل کے بجائے سخت اقدامات پر مبنی تھا، جبکہ بین الاقوامی دباؤ بڑھنے کے بعد ہی وزیراعظم نے امتحانی اسکینڈل پر سخت کارروائی کا اعلان کیا اور وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ احتجاجی منتظمین اور ان کے حامیوں کے مطابق یہ پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ بھارت کے جمہوری دعوؤں اور عملی طرزِ حکمرانی کے درمیان واضح تضاد موجود ہے۔ ان کے مطابق مسلسل بین الاقوامی نگرانی نے نئی دہلی کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچایا ہے اور بھارت کی اُس طویل عرصے سے قائم سافٹ پاور اور "ماڈل جمہوریت" کی شبیہ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جبکہ امریکہ میں ہونے والے یہ احتجاج اس بیانیے کو مزید کمزور کرنے کا باعث بنے۔