امریکا:205غیرقانونی تارکین وطن کو لیکر پہلی پرواز بھارت روانہ

امریکا:205غیرقانونی تارکین وطن کو لیکر پہلی پرواز بھارت روانہ
کیپشن: امریکا:غیرقانونی تارکین وطن کو لیکر پہلی پرواز بھارت روانہ

ویب ڈیسک: ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے امریکا میں ہندوستانیوں کی غیر قانونی امیگریشن کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے پیر کو خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ایک امریکی فوجی C-17  طیارہ 205غیرقانونی تارکین وطن کو لیکر بھارت روانہ ہوگیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ امریکا سے 18000 بھارتیوں کو ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے امیگریشن ایجنڈے میں مدد کے لیے امریکی فوج سے مدد طلب کی ہے تاکہ امریکا، میکسیکو سرحد پر اضافی دستے بھیجے جائیں، تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے فوجی ہوائی جہاز استعمال کیے جائیں اور ان کے لیے فوجی اڈے کھولے جائیں۔

ملک بدری کی پروازیں غیر قانونی سمجھے جانے والے تارکین وطن کو گوئٹے مالا، پیرو اور ہونڈوراس لے جاتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی واپسی کے بعد بھارت وہ سب سے دور کی منزل ہے جہاں پروازیں جائیں گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد پہلی مرتبہ بھارت ڈی پورٹیشن ہوگی۔ ٹرمپ اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ اپنی اپنی بات چیت کے دوران بھارتیوں کی امریکا میں غیرقانونی امیگریشن کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ انہوں نے وزیراعظم مودی کے ساتھ امیگریشن پر تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ جب "غیر قانونی تارکین وطن" کو واپس لینے کی بات آتی ہے تو بھارت 'جو صحیح ہے' کرے گا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ایک 'نتیجہ خیز ملاقات' کی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو 'وسیع اور گہرا' کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

روبیو نے اس معاملے کو اٹھایا جسے محکمہ خارجہ نے جے شنکر کے ساتھ "بے قاعدہ امیگریشن" قرار دیا۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ نئی دہلی امریکا میں غیر قانونی امیگریشن کی "سختی سے مخالفت" کرتا ہے۔

جے شنکر نے مزید کہا کہ "اس میں بہت سی دوسری غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہو جاتی ہیں۔  اگر ہمارے شہریوں میں سے کوئی ایسا ہے جو قانونی طور پر یہاں نہیں ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ہمارے شہری ہیں، تو ہم ان کی بھارت میں جائز واپسی کے لیے ہرممکن اقدام اٹھائیں ہیں،‘‘

ایچ ٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکا نے اکتوبر 2023 سے ستمبر 2024 کے درمیان بھارت سے 1,100 سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کیا۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) میں سرحدی اور امیگریشن پالیسی کے اسسٹنٹ سیکریٹری روئس مرے نے نومبر میں کہا کہ حالیہ برسوں میں امریکا سے غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کی ملک بدری میں "مستقل اضافہ" ہوا ہے۔

وزارت خارجہ نے ملک بدری کو امریکا کے ساتھ "باقاعدہ قونصلر مذاکرات اور انتظامات" کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ ترجمان بھارتی دفتری خارجہ رندھیر جیسوال نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مابین "باقاعدہ قونصلر ڈائیلاگ"جاری ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی اگلے ہفتے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دے دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس دعوت کی تصدیق اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد کی گئی ہے جب بھارتی شہریوں کو امریکا سے ' ڈی پورٹ' کرنے کے لیے فوجی طیارہ بھارت روانہ ہوا تھا۔

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے بھارتی رہنما نریندر مودی سے 27 جنوری کو فون پر گفتگو کی تھی۔ اس ابتدائی گفتگو میں بھارت کے غیر قانونی امیگرنٹس کے امریکا سے واپس بھیجے جانے کے معاملے کے علاوہ دو طرفہ تجارت اور امریکی ساختہ اسلحے کی بھارت کو فروخت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یادرہےامریکا بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے ۔ 2023 اور 2024 کے درمیان تجارتی حجم 118 ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت ہوئی۔ جس میں بھارت نے 32 ارب ڈالر کا اضافہ ظاہر کیا۔

Watch Live Public News