ویب ڈیسک: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کے دورن جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کوئی شخص جو فوج کا حصہ نہ ہو صرف جرم کی بنیاد پر فوجی عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے؟دوران سماعت سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے کہا جا رہا ہے عدالتوں میں اور ٹی وی پر بولنابند کر دو،مجھے کہا جا رہا تمہیں رینجر اہلکاروں کے قتل پر ملٹری کورٹس لے جائیں گے،ہو سکتا ہے مجھے 7 فروری کو اسی کیس میں گرفتار کر لیاجائے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں۔
سینئر وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ایف بی علی کیس 1962 کے آئین کے مطابق فیصلہ ہوا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے کیا اختیارات ہیں؟ کوئی شخص جو فوج کا حصہ نہ ہو صرف جرم کی بنیاد پر فوجی عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے؟
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں بھی کہا گیا ہے کہ سویلنز کا ٹرائل بنیادی حقوق پورے کرنے کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی علی خود بھی ایک سویلین ہی تھے، ان کا کورٹ مارشل کیسے ہوا؟
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت نے قرار دیا تھا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی ضروری ہے، عدالت نے قرار دیا تھا کہ ٹرائل میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، ایف بی علی کیس میں آرمی ایکٹ کی شق ٹو ڈی ، ون پر بات ہوئی، ایف بی علی کیس میں کہا گیا صدارتی آرڈیننس کے زریعے لایا گیا آرمی ایکٹ درست ہے، یہ بھی کہا گیا بنیادی حقوق کے تحت ریویو کیا جاسکتا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی علی کیس میں نیکسز کی کیا تعریف کی گئی۔
سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ آرمڈ فورسز کو اکسانا اور جرم کا تعلق ڈیفنس آف پاکستان سے متعلق ہونے کو نیکسز کہا گیا، یہاں ایف بی علی کیس کو ایسے پڑھا گیا جس سے الگ عدالت قائم کرنے کی اجازت دینے کا تاثر قائم ہوا۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ آپ مرکزی فیصلے کیخلاف دلائل دے رہے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک کا بھی فیصلہ موجود ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ کی شقوں کو کالعدم کیوں قرار دیا گیا۔
سلیمان راجہ نے جواب دیا کہ اپیل ڈگری کے خلاف دائر کی جاتی ہے، وجوہات کیخلاف اپیل دائر نہیں ہوتی، عدالت آپریٹو پارٹ برقرار رکھتے ہوئے وجوہات تبدیل کر سکتی ہے، عدالت ایسا آئے روز کرتی رہتی ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 1968 میں آرڈیننس آیا، آرڈیننس کے تحت بلوچستان تحصیلدار کو عدالت کے اختیارات دیے گئے، عزیز اللہ میمن کیس میں معاملہ چیلنج ہوا تو عدالت عظمیٰ نے اسے ختم کیا، 1973 کے آئین کے بعد بھی 14 سال تک سلسلہ چلتا رہا۔
سلمان راجہ نے کہا کہ 1987 میں جب آرٹیکل 175کی شق 3آئی تو قانون بدل گیا، اگر عدالت جسٹس عائشہ ملک کا آرٹیکل 10 اے کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو ہماری جیت ہے، اگر یہ کہا جاتا ہے کہ آرٹیکل 175کی شق تین سے باہر عدالت قائم نہیں ہو سکتی تب بھی ہماری جیت ہے، عجیب بات ہے بریگیڈیئر ریٹائرڈ ایف بی علی کو ضیاء الحق نے ملٹری عدالت سے سزا دی، پھر وہی ضیاء الحق جب آرمی چیف بنے تو ایف بی علی کی سزا ختم کردی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہو سکتا ہے ضیاء الحق نے بعد سوچا ہو پہلے وہ غلط تھا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ کہیں ایسا تو نہیں ضیا الحق بعد میں ایف بی علی سے معافی مانگی ہو،کیا 1962 کا آئین درست تھا۔
سلمان راجہ نے کہا کہ 1962 کا آئین تو شروع ہی یہاں سے ہوتا ہے میں فیلڈ مارشل ایوب خان خود کو اختیارات سونپ رہا ہوں، اس دور میں آرٹیکل چھپوائے گئے، فتوے دیے گئے کہ اسلام میں بنیادی حقوق نہیں ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ فتوے دینے والے وہیں رہتے ہیں حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
سلمان راجہ نے کہا کہ اسی لیے ایوب خان کے دور میں حبیب جالب نے نظم لکھی میں نہیں مانتا، ایسے دستور کو، ایف بی علی بعد میں کینیڈا شفٹ ہوئے جہاں وہ کینیڈین آرمی کے ممبر بن گئے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 1977-80 کے دوران بلوچستان ہائیکورٹ نے مارشل میں سزاؤں والوں کو ضمانتیں دینا شروع کیں، ہر 10-8 سال بعد عدلیہ کا تابع لانے کی کوشش ہوتی ہے، پیپلز پارٹی رجسڑیشن کیلئے ایک قانون لایا گیا تھا، سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد پیپلز پارٹی کے لئے خلاف بنایا گیا قانون ختم ہوا، عدلیہ کسی بھی وقت قانون کا بنیادی حقوق کے تناظر میں جائزہ لے سکتی ہے۔
جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہم ایک فیصلے کے خلاف اپیل سن رہے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا اس اپیل میں ہم آرٹیکل 187 کے اختیار استعمال کرسکتے ہیں؟
سلمان اکرم راجہ نے استدلال کیا کہ آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کا اختیار تو عدالت کے پاس ہمیشہ رہتا ہے۔
جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ شروع میں آپ نے ہی عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض کیا تھا شکر ہے اب بڑھا دیا۔
وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ عدالتی دائرہ اختیار ہمیشہ وقت کے ساتھ بڑھا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب سویلین آرمڈ پرسنل کو اکسانے کی کوشش کرے، کیا آرٹیکل 10 اے صرف سویلین کی حد تک ہے، یا اسکا اطلاق ملٹری پرسنل پر بھی ہوتا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نےریمارکس دیئے کہ آپ صرف اپنے کیس تک محدود رہیں،ہم باقی سوالات کسی اور کیس میں جب آئے گا تو دیکھ لیں گے۔
سلمان راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 175 کی شق تین کا فائدہ سویلین اور آرمڈ فورسز دونوں کو دینا ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ بعض اوقات ملک دشمن ایجنسیاں سویلین کو استعمال کرتی ہیں،آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، ایسے میں تو ملک دشمن ایجنسیوں کیلئے کام کرنے والوں کا بھی ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکے گا۔
سلمان راجہ نے کہا کہ میں بھارتی آرمی ایکٹ اور پاکستان کے آرمی ایکٹ کا تقابلی جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا ایک ایس ایچ او خود عدالت لگا لے، اپیل ایس پی سنے اور توثیق آئی جی کرے، بھارت میں ملٹری ٹرائل کیخلاف اپیل ٹربیونل میں جاتی ہے، ٹربیونل اپیل میں ضمانت بھی دے سکتا ہے،شفاف ٹرائل کا حق ہوتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ کیا بھارت کے آرمی ایکٹ میں ون ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو ہے۔
سلمان راجہ نے کہا کہ یہ شقیں بھارت میں نہیں ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ شقیں ہی نہیں ہیں تو آپ تقابلی جائزہ کیسے لے سکتے ہیں،ہمارا قانون الگ ہے،بھارت کا قانون الگ ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سویلین اور ملٹری پرسنلز دونوں پاکستان کے شہری ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کہا جاتاہے آرمی ایکٹ میں سویلین سے متعلق دفعات دہشتگردوں کیلئے ہیں،دراصل یہ دفعات حکومت اپنے مخالفین پر لگا رہی ہے،مجھ پر بھی ایف آئی آر ہے کہ 26 نومبر کو تین رینجر اہلکاروں کو قتل کیا،الزام لگایا گیا ہے کہ میں نے ہی قتل کا منصوبہ بنایا تھا،مجھے کہا جا رہا ہے عدالتوں میں اور ٹی وی پر بولنابند کر دو،مجھے کہا جا رہا تمہیں رینجر اہلکاروں کے قتل پر ملٹری کورٹس لے جائیں گے،ہو سکتا ہے مجھے 7 فروری کو اسی کیس میں گرفتار کر لیاجائے،عدالت ان دفعات کو بحال کرتی ہے تو ان کا ایسا ہی استعمال ہو گا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لزام کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو ٹرائل آزاد فورم پر ہی ہو سکتا ہے،میرے موکل ارزم کو فوجی عدالت سے چھ سال سزا دی گئی،میرا موکل ارزم لاہور کا فرسٹ کلاس کرکٹر ہے،فوجی تحویل میں میرے موکل کےساتھ غیرانسانی سلوک کیا گیا،تفصیلات کھلی عدالت میں بتائیں تو لگے گا ڈراماٹائز کر رہا ہوں، فوجی عدالت میں اپیل آرمی چیف کے پاس جاتی ہے جس کے حکم پر ہی کورٹ مارشل کیا جاتا،سیشن جج کے حکم پر تو فوجی عدالت میں وکالت نامہ دستخط کروایا گیا۔
بعد ازاں ملٹری کورٹس کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی، سلمان اکرم راجہ پیر کے روز بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔