ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں مین ہول کے ڈھکن چوری اور غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے سخت قانون سازی کا اعلان کیا ہے، یہ فیصلہ حالیہ مہلک حادثات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا ہےکہ مجوزہ قانون کے تحت مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے، خریدنے یا فروخت کرنے والے افراد کو ایک سے دس سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔
ایسی صورتوں میں جہاں بغیر ڈھکے ہوئے نالوں کی وجہ سے جانی نقصان ہوتا ہے، تو ملزمان پر کروڑوں روپے کے بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔
یہ اقدام لاہور کے بھاٹی گیٹ کے قریب، داتا دربار کے پاس پیش آنے والے ایک المناک واقعے کے بعد سامنے آیا، جہاں ایک خاتون اور اس کا 10 ماہ کا بچہ کھلے سیور میں گر گئے اور ریسکیو کی کوششوں کے باوجود بعد میں انتقال کر گئے۔
ایک علیحدہ واقعے میں سرگودھا میں ایک بچہ سیور میں گر گیا تھا، مگر بروقت ریسکیو کر کے اسے بچا لیا گیا۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ نیا قانون ایسے حادثات کو روکنے اور عوامی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کروایا جا رہا ہے، تاکہ مین ہول کے ڈھکن ہٹانے یا چوری کرنے والوں کو سخت سزا دی جا سکے۔