ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو امن کے نوبیل انعام کا سب سے موزوں امیدوار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا میں متعدد جنگوں کو روکا اور امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکا کے یومِ آزادی کی مناسبت سے آئیوا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی قیادت میں امریکا نے پانچ ممالک کو جنگ میں جانے سے روکا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کو ٹالنے اور کوسوو و سربیا کے درمیان جنگ بندی شامل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کوششوں سے کانگو اور روانڈا کے درمیان تین دہائیوں سے جاری جنگ ختم کرائی گئی، جس میں اب تک 60 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔
صدر نے نوبیل انعامات کے انتخاب پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ایک نامعلوم پروفیسر کو امن کا نوبیل انعام دے دیا جائے گا، جبکہ حقیقی امن قائم کرنے والوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔"
ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران امریکی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جب کہ امریکی فضائیہ نے مسلسل 37 گھنٹے پرواز کر کے دنیا کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرایا۔
انہوں نے سرحدی سیکیورٹی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف تاریخی بل منظور کر چکے ہیں، اور امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیپورٹیشن پلان شروع کر دیا گیا ہے۔
صدر کا کہنا تھا کہ "آج امریکی اسٹاک مارکیٹ بہترین کارکردگی دکھا رہی ہے، میرے پچھلے دور میں معیشت مضبوط ترین تھی اور آئندہ مزید بہتر ہوگی، ہم امریکا کو دوبارہ عظیم، محفوظ اور خوشحال بنائیں گے۔"
واضح رہے کہ ریپبلکن رکنِ کانگریس نے ٹرمپ کو ایران و اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کرنے کے اعتراف میں 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان نے بھی پاک بھارت کشیدگی کے دوران ٹرمپ کی سفارتی مداخلت کو سراہتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش ناروے کی نوبیل کمیٹی کو ارسال کی ہے۔