قومی اسمبلی نےبغیر سوچے ریفرنس بھیجا،اسپیکر نے کوئی مشاورت نہیں کی:عمر ایوب

قومی اسمبلی نےبغیر سوچے ریفرنس بھیجا،اسپیکر نے کوئی مشاورت نہیں کی:عمر ایوب
کیپشن: قومی اسمبلی نےبغیر سوچے ریفرنس بھیجا،اسپیکر نے کوئی مشاورت نہیں کی:عمر ایوب

ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی عمر ایوب نے اپنے خلاف دائر نااہلی ریفرنس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قومی اسمبلی نے بغیر مشاورت اور بغیر سوچے سمجھے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ "میرے خلاف ریفرنس قومی اسمبلی کے اسپیکر کو دائر ہوا، مگر اسپیکر نے اس پر کوئی مشاورت نہیں کی اور قومی اسمبلی نے اپنے دماغ کا استعمال کیے بغیر اسے آگے بھیج دیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں انہوں نے اپنے مخالف امیدوار کو 40 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی اور یہ ریفرنس محض سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔عمر ایوب نے نشاندہی کی کہ "2023 کا لوکل باڈی الیکشن ابھی تک ہوا ہی نہیں،اس کے باوجود میرے خلاف بنیاد ہی غیر موجود ہے۔"

عمرایوب نے کہاکہ ان کے مخالف نے ماضی میں ایبٹ آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، مگر عدالت نے اس ریفرنس کو خارج کر دیا۔

عمرایوب کی الیکشن کمیشن میں پیشی،سماعت ملتوی

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی عمر ایوب کے خلاف دائر نااہلی ریفرنس پر الیکشن کمیشن میں سماعت کا آغاز ہوا۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عمر ایوب خود روسٹرم پر پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ریفرنس کی کاپی موصول ہو چکی ہے، تاہم ابھی وکیل مقرر کرنا باقی ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ بجٹ اجلاس شروع ہو چکا ہے اور وہ فنانس کمیٹی کے ممبر بھی ہیں، اس لیے انہیں تیاری کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔

عمر ایوب نے کمیشن سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت جولائی میں رکھی جائے تاکہ وہ وکیل بھی مقرر کر سکیں اور قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کر سکیں۔

ممبر سندھ نے کہا کہ اسپیکر ریفرنس پر 90 دن کا وقت ہوتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔

Watch Live Public News