ویب ڈیسک: وفاقی بجٹ 2025-26 کا عمل حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جہاں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اقتصادی ذرائع کے مطابق یہ لیوی ممکنہ طور پر آئندہ بجٹ میں شامل کی جا رہی ہے تاکہ مالی وسائل میں اضافہ کیا جا سکے۔ابتدائی طور پر ڈھائی روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ دوسرے سال اس لیوی کو بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کرنے کا امکان ہے۔
کاربن لیوی کے نفاذ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو مہنگائی کے دباؤ میں پسے عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مالی سال 2025-26 میں اس لیوی سے 45 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے، جب کہ 2026-27 میں آمدن دگنی ہو کر 90 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کو ریونیو بڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن ایسے اقدامات عوامی ردعمل کو بھڑکا سکتے ہیں، خاص طور پر جب مہنگائی پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔