ویب ڈیسک: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا آج کے اجلاس میں بجٹ کے حوالے سے غور کیا گیا، ہر صوبے نے اور وفاق نے اپنے مفادات کے مطابق بجٹ بنانا ہے، خیبرپختونخوا کو اپنے حقوق مل رہے ہیں، ہمارے حقوق ملنے کے بعد وفاق اور صوبے دونوں کو فائدہ ہو گا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اگست میں این ایف سی ایوارڈ کے لئے اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا ہے، ہمارا صوبہ معاشی طور پر سب سے اچھی پوزیشن میں ہے، ہم آئے تھے تو صوبہ ہمیں بہت برے حالات میں ملا تھا، ہم فلاحی بجٹ دیں گے، صنعتوں، زراعت اور ماحول پر فوکس کیا گیا ہے۔
این ایف سی پر صوبے کو حقوق مل رہے ہیں، سی سی آئی کے اگلے اجلاس میں این ایف سی اور تمباکو کا مسئلہ بھی حل ہو گا، ہم نے گڈ گورننس سے اپنے صوبے کو مالی طور پر خودمختار بنایاہے، سوا سال میں اپنے صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ صوبے کا قرضہ اتارنے کے لئے جو فنڈ بنایا ہے اس میں ڈیڑھ ارب روپے ہیں، میں نے اپنے صوبے کا پچاس ارب قرضہ اتار دیا ہے، ہمارا صوبہ مالی طور پر مستحکم ہے، نئے منصوبے شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
این ایف سی کی کٹوتی کر کے ہمارے اوپر بوجھ ڈالا گیا تھا، آئی ایم ایف ہمارے صوبے کی کارکردگی کی تعریف کر رہا ہے، صوبے کے عوام کو کہتاہوں آپ نے بالکل پریشان نہیں ہونا، افغانستان سے مذاکرات شروع کئے گئے تو ہمیں آن بورڈ نہیں لیا گیا۔
ہمارے لوگوں کے حالات ایسے نہیں کہ ان پر مزید ٹیکس لگایا جائے، ضم شدہ اضلاع میں کسی نئے ٹیکس کو نافذ کرنے پر وفاق کا ساتھ نہیں دوں گا، اگر مزید ٹیکس لگائے گئے تو ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے، صوبے کے عوام کو نئے بجٹ میں ایسا پیکج دیں گے جو تاریخ میں نہیں دیا گیا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو جس دن فیلڈ مارشل بنانے کی تقریب ہوئی اس دن میرا ایک جرگہ تھا، اپنی مصروفیات کی وجہ سے اس تقریب میں شامل نہیں ہو سکا.
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے خلاف احتجاج کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا جب میں 250 ارب روپے کا سرپلس چھوڑ کر گیا تھا تو نگران حکومت نے کیا کیا؟مولانا کا احتجاج چور مچائے شور ہو گا، کسی نے مناظرہ کرنا ہے تو ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ جائے، افغانستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں حملے کرنا جہاد نہیں ہے۔
دوسری جانب قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف کی منظوری دے دی،کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پلان کی بھی منظوری دے دی۔