(ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت کسی بھی صارف یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ تمام فیصلے ملکی مفاد اور توانائی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) میں نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کے نظام میں منتقلی کے حوالے سے منعقدہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین، متعلقہ سرکاری اداروں، صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر توانائی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نیٹ میٹرنگ کو ختم نہیں کر رہی، بلکہ اس کے موجودہ طریقہ کار کو ایک زیادہ مؤثر، شفاف اور پائیدار ماڈل میں تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2017-18 میں انہوں نے خود نیٹ میٹرنگ کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا، اور اُس وقت یہ نظام ابتدائی مرحلے میں تھا۔ اب جبکہ نیٹ میٹرنگ کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے، اس کے گرڈ پر سنجیدہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا بروقت تدارک ضروری ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کسی بھی صارف یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ تمام فیصلے ملکی مفاد اور توانائی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔ اور نہ ہی ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ نیٹ میٹرنگ والے صارفین ہمیں بجلی سب سے سستے بجلی کے ذرائع کے نرخوں پر فراہم کریں۔ اگر ہم یونٹس کی خریداری کا ذکر کرتے ہیں تو اس بارے بھی غور جاری ہے اور اس کو انرجی خریداری پرائس پر لانے کی بات ہو رہی ہے ، تاکہ نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ یہ نظام خود بخود ایڈجسٹ ہو۔ یہ تمام تجاویز زیر غور ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے پے بیک پیریڈ اگر تقریباً تین سال یا اس سے کم ہے، تو یہ کسی بھی سرمایہ کاری کے لیے موزوں مدت ہے۔ اگر ایک صارف 40 فیصد بجلی خود استعمال کر رہا ہے تو تین سال میں رقم کی واپسی ایک قابلِ قبول تجارتی ماڈل ہے۔ یہ اصلاحات حوصلہ شکنی نہیں، بلکہ ایک بہتر، متوازن اور پائیدار نظام کی طرف پیش قدمی ہے۔
وفاقی وزیر اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت نے 9000 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبوں کو ختم کیا، جو بجلی کے نظام پر بوجھ بن رہے تھے۔ کیپٹو پاور صارفین پر لیوی عائد کر کے انہیں گرڈ کی طرف واپس لایا گیا، جس کے نتیجے میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا۔ جون 2024 سے اب تک، صنعت کو دی جانے والی کراس سبسڈی کا حجم 174 ارب روپے ہے، جس سے صنعتی نرخوں میں 31 فیصد تک کمی آئی اور صنعتی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں مختلف صارفین کے لیے 14 سے 18 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی اصلاحات عملی طور پر اثر دکھا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نے بڑے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کی جس سے نرخوں میں واضح کمی آئی اور بجلی کے طویل مدتی منصوبے میں ایسے منصوبے شامل نہیں کیے گئے جن کی ضرورت نہ تھی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس اس وقت 7000 میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے، جو بغیر کسی سبسڈی کے 7 سے 7.5 سینٹ میں صنعت اور زراعت کو دی جا سکتی ہے۔ ہم چھ ماہ سے اسکیم کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں، حالانکہ ہم پر کوئی براہ راست مالی دباؤ نہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بجلی کی سپلائی اور ڈیمانڈ کو توازن میں رکھا جائے، تاکہ نظام مضبوط ہو اور صارفین کو فائدہ پہنچے۔