ایف آئی اےاور اے این ایف کو مصطفی عامر قتل کیس کی تحقیقات کا حکم

mstafa amir case
کیپشن: mstafa amir case
سورس: google

ویب ڈیسک :کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے تعلق رکھنے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کے قتل کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا ہے، جہاں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) کو معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
گزشتہ ماہ مصطفیٰ عامر کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، ان کی لاش بلوچستان کے علاقے حب سے جلی ہوئی حالت میں برآمد ہوئی تھی۔ پولیس تحقیقات کے مطابق مقتول کو ان کے دوستوں نے گھر سے بلایا، اغوا کیا اور بعد ازاں اسے قتل کر دیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے نہ صرف ایف آئی اے بلکہ انسدادِ منشیات فورس ( اے این ایف) کو بھی اس کیس کی چھان بین کی ہدایت کی ہے۔
 حکام کے مطابق اے این ایف سے اس لیے بھی معاونت لی جا رہی ہے کیونکہ مقتول مصطفیٰ عامر ماضی میں منشیات کے استعمال اور انسدادِ منشیات فورس کی حراست میں رہ چکے تھے۔
قائمہ کمیٹی نے اس کیس میں ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جس میں سابق وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل، رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ، نبیل گبول اور ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن شامل ہیں۔
کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں آئی جی سندھ کو بھی طلب کر لیا ہے تاکہ کیس میں اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ لی جا سکے۔
اس سے قبل کیس میں ہونے والی پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ مصطفیٰ عامر اور مرکزی ملزم ارمغان کے درمیان مالی لین دین کے ساتھ ساتھ ایک لڑکی کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی تھی۔
  
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  
 
 
 
 
 
 
 

Watch Live Public News