ویب ڈیسک: سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت معرکۂ حق کے بعد خوفزدہ ہو کر اپنے دفاعی اخراجات بڑھا رہا ہے، تاہم اگر اس نے دوبارہ کوئی جارحیت کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ " آپریشن سندور" جیسی کسی کارروائی کی کوشش کی گئی تو بھارت کو ایک بار پھر سبق سکھایا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت کی دھمکیاں صرف گیدڑ بھبکیاں ہیں، پاکستان کی مسلح افواج ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ راج ناتھ سنگھ قابلِ اعتبار نہیں، بھارت کی دفاعی سرگرمیوں پر پاکستان کی نظر ہے، ہمیں کسی قسم کی تشویش نہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ نہ فوج کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق تھا، نہ ہے، اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔ مذاکرات سیاسی جماعتوں کا کام ہے۔ 9 مئی کے مقدمات پر بات کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کا فیصلہ عدالتیں کریں گی، ریاست دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرے گی، ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، افغان حکومت کو متعدد بار دہشت گردوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ فلسطین اور کشمیر پر پاکستان کا مؤقف واضح اور اٹل ہے، اسرائیل سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ غزہ میں جاری مظالم فوری طور پر بند کیے جائیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی جاری ہے، تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کی حالیہ صورتِ حال پر ذرائع نے کہا کہ حالات کو سنبھالنے کا کریڈٹ سیاسی قیادت کو جاتا ہے، یہ معاملہ یہاں تک نہیں پہنچنا چاہیے تھا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ اسٹریٹیجک اور معاشی دونوں حوالوں سے اہم ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں رواں سال 15 ستمبر تک 1422 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جن میں 118 افغان باشندے بھی شامل تھے۔ اب تک 57 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں۔