پیوٹن کی زیلنسکی کو ماسکو آنے کی دعوت، جنگ بندی مذاکرات کی مشروط پیشکش

پیوٹن کی زیلنسکی کو ماسکو آنے کی دعوت، جنگ بندی مذاکرات کی مشروط پیشکش
کیپشن: پیوٹن کی زیلنسکی کو ماسکو آنے کی دعوت، جنگ بندی مذاکرات کی مشروط پیشکش

ویب ڈیسک: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرینی ہم منصب ولوودیمیر زیلنسکی کو ماسکو آنے اور براہِ راست ملاقات کرنے کی دعوت دی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر بات چیت میں کوئی قابلِ قبول حل نہ نکلا تو روس فوجی طاقت استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فاکس نیوز کے مطابق پیوٹن نے چین میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ وہ ملاقات سے کبھی انکار نہیں کرتے اور اگر زیلنسکی تیار ہوں تو ماسکو میں بات چیت کے لیے آسکتے ہیں۔

یوکرینی صدر کے دفتر اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال اس دعوت پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چند دنوں میں پیوٹن سے براہِ راست بات کریں گے۔ ٹرمپ کے مطابق پیوٹن کو دی گئی دو ہفتوں کی ڈیڈلائن مکمل ہوچکی ہے اور اب صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جمعرات کو وہ صدر زیلنسکی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کریں گے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا سکے۔

ادھر یوکرین کے وزیر خارجہ سِبِیہا نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ردعمل دیتے ہوئے پیوٹن کی پیشکش کو "جان بوجھ کر ناقابلِ قبول" قرار دیا اور کہا کہ آسٹریا، ویٹی کن، سوئٹزرلینڈ، ترکی اور تین خلیجی ممالک سمیت سات ممالک امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق زیلنسکی کسی بھی وقت مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن روس سنجیدگی سے شامل نہیں ہو رہا۔

یاد رہے کہ روس یوکرین جنگ اپنے تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہے اور تاحال کوئی پائیدار سفارتی حل سامنے نہیں آیا۔ پیوٹن کا دعویٰ ہے کہ روسی افواج ہر محاذ پر پیش قدمی کر رہی ہیں جبکہ یوکرین جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔

Watch Live Public News