’قلعہ‘ نما گاڑی: کم جونگ اُن کی بلٹ پروف ٹرین  

’قلعہ‘ نما گاڑی: کم جونگ اُن کی بلٹ پروف ٹرین  

(ویب ڈیسک )  ایک شمالی کورین ٹرین، جس پر سنہری پٹی بنی ہوئی ہے، منگل کے روز شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو چین لے گئی، جہاں انہوں نے ایک عظیم فوجی پریڈ میں شرکت کی۔ جس میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی شریک ہوئے۔

کم جونگ اُن 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک 9 بین الاقوامی دورے کر چکے ہیں اور جنوبی کوریا کی سرحد بھی 2 بار پار کر چکے ہیں — زیادہ تر سفر وہ اپنی خصوصی بلٹ پروف ٹرین کے ذریعے کرتے ہیں۔

اے ایف پی نے کم جونگ اُن کے پسندیدہ سفر کے ذریعے سے متعلق چند دلچسپ حقائق پیش کیے ہیں:

— خاندانی روایت —  

ٹرینوں سے محبت کم کے خاندان میں نسلوں سے چلی آ رہی ہے۔

ان کے والد کم جونگ اِل، طیاروں سے خوف کھاتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے بیرونی دورے صرف چین اور روس تک محدود رہے اور وہ بھی بکتر بند ٹرین کے ذریعے۔

2001 میں کم جونگ اِل نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ سے ماسکو تک ٹرین کے ذریعے ایک طویل سفر کیا، جو تقریباً 20 ہزار کلومیٹر (12,400 میل) پر محیط تھا اور اسے مکمل کرنے میں تقریباً 24 دن لگے۔

البتہ یہ ٹرین اچھی خاصی آسائش سے لیس تھی، جس میں تازہ لوبسٹر، اور فرانس کے مشہور بورڈو اور برگنڈی کے ریڈ وائنز کے کریٹ موجود تھے، جیسا کہ ایک روسی عہدیدار نے بتایا جو اس سفر میں شریک تھے۔

شمالی کوریا کے سرکاری بیان کے مطابق، کم جونگ اِل 2011 میں ایک ’فیلڈ گائیڈنس‘ دورے پر ٹرین میں ہی تھے جب انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کر گئے۔

کم جونگ اِل اور ان کے والد، شمالی کوریا کے بانی کم اِل سُنگ کی استعمال کردہ بوگیاں اب پیانگ یانگ میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔

- مخملی پردے، قومی پرچم -  

اپنے والد کے برعکس، کم جونگ اُن کو ہوائی سفر کا خوف نہیں — وہ چین اور سنگاپور سمیت کئی بار ہوائی سفر کر چکے ہیں، اور ایک بار ریاستی میڈیا نے انہیں طیارے کے کنٹرول سنبھالتے ہوئے بھی دکھایا تھا۔

تاہم اپنے حالیہ بیجنگ کے دورے کے لیے انہوں نے ایک بار پھر ٹرین کا انتخاب کیا۔

پیانگ یانگ کی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے منگل کو کچھ تصاویر شائع کیں جن میں کم جونگ اُن کو ایک ڈبے کے اندر خوشگوار موڈ میں بیٹھا دکھایا گیا، بظاہر وہ بیجنگ کے سفر پر تھے۔

شمالی کوریا کے رہنما کی تصویر ایک لکڑی کی میز کے سامنے بیٹھے ہوئے لی گئی، جس پر ایک لیپ ٹاپ، ایش ٹرے، پرنٹر، لیمپ اور کئی ٹیلی فون رکھے ہوئے تھے۔ اس جگہ کو قومی پرچم اور نیلے مخملی پردوں سے سجایا گیا تھا۔

ان کے ساتھ وزیر خارجہ چوے سون ہی بیٹھی تھیں، جن کے سامنے کئی دستاویزات رکھی تھیں۔

ایک اور تصویر میں کم کو ٹرین کے باہر کھڑے سگریٹ پیتے دکھایا گیا ہے، جب کہ وزیر خارجہ  چوے اور دیگر حکام ان کے ارد گرد موجود تھے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار یونیفکیشن ایجوکیشن کے پروفیسر پارک من جو نے اے ایف پی کو بتایا "یہ ٹرین جب دیہی علاقوں سے گزرتی ہے تو عوام کے لیے ایک طاقتور تاثر چھوڑتی ہے — رہنما کی علامتی تصویر جو رات گئے تک بھی کام میں مصروف ہے۔"

"یہ سفر نہ صرف عملی بلکہ سیاسی مقاصد بھی پورے کرتا ہے۔"

- کم جونگ اُن کے گزشتہ  دورے -  

ستمبر 2023 میں کم جونگ اُن نے روس کے مشرقی حصے میں صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے 9 راتیں اور 10 دن ٹرین میں سفر کیا۔

اس سے پہلے اپریل 2019 میں بھی وہ تقریباً 1,200 کلومیٹر کا سفر طے کر کے ٹرین کے ذریعے روسی شہر ولادیووستوک میں پیوٹن سے ملے تھے۔

فروری 2019 میں، کم جونگ اُن نے امریکا کے  اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ناکام دوسری سربراہی ملاقات کے لیے ویتنام کے شہر ہنوئی کا سفر کیا، جس میں انہوں نے تقریباً 60 گھنٹے ٹرین میں گزارے۔

چین کے چار دوروں میں سے کم  جونگ اُن نے مارچ 2018 اور جنوری 2019 میں ٹرین کے ذریعے سفر کیا، جبکہ مئی اور جون 2018 میں اپنے ذاتی طیارے ’چھامے-1‘ (Chammae-1) کے ذریعے گئے۔

تاہم، 2018 کے بعد سے انہوں نے عوامی طور پر اس طیارے کو استعمال نہیں کیا، اور تجزیہ کار اس کی عمر اور دیکھ بھال کے مسائل کی وجہ سے اس کی قابلِ بھروسا ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

- بلٹ پروف کھڑکیاں، مضبوط دیواریں -  

اطلاعات کے مطابق کم خاندان کے پاس کئی ایک جیسے خصوصی ٹرین سیٹ موجود ہیں جو پیانگ یانگ کی ایک فیکٹری میں تیار کیے گئے ہیں۔

تجریہ کاروں کے مطابق کم جون اُن  کی موجودہ ٹرین میں بلٹ پروف کھڑکیاں، اور دھماکوں سے تحفظ کے لیے دیواروں اور فرش کو اضافی طور پر مضبوط کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی کیونگ نام یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار فار ایسٹرن اسٹڈیز کے پروفیسر لِم ایول چُل نے اے ایف پی کو بتایا کہ  "کہا جاتا ہے کہ یہ ٹرین زیادہ تر توپ خانے کے گولوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے — واقعی ایک قلعہ ہے۔"

"مجھے یقین ہے کہ اس میں دفاعی اور حملہ آور دونوں صلاحیتیں موجود ہیں، تاکہ یہ کسی بھی فوجی صورتحال کا مقابلہ کر سکے۔"

اگرچہ ہوائی جہاز سے سفر تیز ہوتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ٹرین کئی اہم فوائد فراہم کرتی ہے، خاص طور پر غیر متوقع حملوں جیسے حالات میں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر پارک کے مطابق " ٹرین میں وہ اپنے ساتھ زیادہ تعداد میں معاونین، حتیٰ کہ گاڑیاں بھی لا سکتے ہیں، جبکہ ایک ہوائی جہاز کو گرایا جا سکتا ہے، ایک چلتی ہوئی ٹرین کو نشانہ بنانا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔"

Watch Live Public News