ویب ڈیسک: امریکی عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایل سیلواڈور ڈی پورٹ کیے جانے والے شہری کو 3 دن کے اندر واپس بلایا جائے۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز امریکی عدالت نے غلطی سے ایل سیلواڈور بھیجے جانے والے میری لینڈ کے شہری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اسے تین دن کے اندر واپس امریکا لایا جائے۔ یہ فیصلہ امریکی انتظامیہ کی سخت ترین ڈیپورٹیشن پالیسی کے خلاف ایک قانونی شکست ہے۔
یاد رہے کہ امریکی انتظامیہ پہلے ہی کیل مارگا بریگوگارسیا نامی شخص کو ایل سیلواڈور کے مہاجر کی بجائے امریکا کا قانونی شہری تسلیم کر چکی ہے۔ جسے گزشتہ ماہ غلطی سے ڈیپورٹ کر دیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ تشدد پسند گروپوں سے منسلک ہیں۔ تاہم انتظامیہ نے واضح کیا کہ انکے پاس غلطی سے ڈیپورٹ کر دیے گئے شہری کو واپس لانے کیلیے کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔
دوسری جانب بریگوگارسیا کہ وکیل نے حکومتی موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسےوہاں بھیجا ہے اور یہی اسے واپس لا سکتے ہیں۔ اینڈریو رس مین نے جمعہ کو بریگو گارسیا کی قانونی ٹیم میں شامل ہونے کے بعد ایک بیان میں کہاکہ حکومتی وکلا سے سوالات کرنے کے بعد، امریکی ڈسٹرکٹ جج پولا زینس نے گرین بیلٹ، میری لینڈ کی عدالت میں سماعت کے دوران فیصلہ سنایا کہ حکومت کو 7 اپریل تک اسے امریکا واپس لانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کی فیصلے پر تنقید:
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ جج کو ایل سیلواڈور کے صدر سے رابطہ کرنا چاہیے کیونکہ ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ اس جج کو ایل سیلواڈور تک بھی اختیار حاصل ہے۔
امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ نےعدالتی حکم کالعدم قرار دیدیا:
تاہم ہفتہ کی صبح حکومت کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے جج کے حکم کو کالعدم قرار دیدیا اور اپیل کورٹ سے فوری طور پر اس فیصلے کو معطل کرنے کا حکم دیا۔ حکمنامے میں لکھا گیا ہے کہ ابریگو گارسیا " امریکا میں رہنے کا کوئی قانونی حق یا بنیاد نہیں رکھتا" اور یہ کہ "عوامی مفاد اس کی واپسی کے حق میں نہیں ہے، خاص طور پر جب جلد بازی میں فیصلے کیے گئے ہیں۔