قومی اسمبلی نے یومِ استحصال کشمیر کے حوالے سے متفقہ طور پر قرارداد منظور کر لی

قومی اسمبلی نے یومِ استحصال کشمیر کے حوالے سے متفقہ طور پر قرارداد منظور کر لی
کیپشن: قومی اسمبلی نے یومِ استحصال کشمیر کے حوالے سے متحدہ طور پر قرارداد منظور کر لی

ویب ڈیسک: قومی اسمبلی نے یومِ استحصال کشمیر کے حوالے سے متفقہ طور پر قرارداد منظور کر لی، جس میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اقدامات کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں بھارتی اقدامات کو جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیا گیا۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دینے اور کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے خلاف بھارتی بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم کی 40 دن سے زائد مسلسل غیر حاضری بھی موضوع بحث رہی۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 64 کے تحت اگر کوئی رکن بغیر اجازت کے مسلسل ایوان سے غائب رہے تو اسپیکر معاملہ نوٹس میں لا کر رکنیت ختم کرنے کی کارروائی کر سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سیدہ نوشین افتخار نے اسی شق کے تحت شیخ وقاص اکرم کی نشست خالی کرنے کی تحریک بھی پیش کر دی، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے رولز کے مطابق کارروائی کا یقین دلایا۔

تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ماضی میں بہت سے ارکان کو دس دس سال کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا جائے گا تو بہتر ہے کہ ایوان کو ہی تالہ لگا دیا جائے۔ وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ آج کا دن کشمیر سے یکجہتی کے لیے مخصوص ہے اور اپوزیشن یومِ استحصال عمران خان منا کر اصل مسئلے سے توجہ نہ ہٹائے۔

بحث کے دوران اسپیکر نے ماحول کو معتدل رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت ہے، سب کو مل بیٹھ کر راستہ نکالنا ہوگا۔ اجلاس کے آخر میں دو نو منتخب خواتین اراکین ثمر ہارون بلور اور سعیدہ جمشید نے مخصوص نشستوں پر حلف اٹھایا۔

Watch Live Public News