یومِ استحصالِ کشمیر پر معروف سیاسی و سماجی شخصیات کا اظہارِ یکجہتی

یومِ استحصالِ کشمیر پر معروف سیاسی و سماجی شخصیات کا اظہارِ یکجہتی
کیپشن: یومِ استحصالِ کشمیر پر معروف سیاسی و سماجی شخصیات کا اظہارِ یکجہتی

ویب ڈیسک: یومِ استحصالِ کشمیر پر پاکستانی قوم نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف معروف شخصیات نے اظہار خیال کیا ہے۔ 

یوم استحصال کشمیر کے موقع پر صدر کشمیر کونسل علی رضا کا کہنا تھا کہ بھارت نے 78 برس میں ہر حربہ آزمایا، مگر کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو ختم نہ کر سکا۔ مقبول بٹ اور افضل گورو کی پھانسیاں بھی تحریکِ حق کو دبانے میں ناکام رہیں۔ 

صدر کشمیر کونسل کا مزید کہنا تھا کہ 7 سے 10 مئی کا معرکۂ حق، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر دنیا کو سچ دکھا دیا۔ پاک فوج کے موثر دفاع کی بدولت آج دنیا بھر میں کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی جا رہی ہے۔

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے رکن سردار عابد رزاق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی وجہ سے 5 اگست 2019، کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ 10 لاکھ قاتل فوج کی موجودگی اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت کشمیر میں جبری قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

سردارعابد رزاق کا کہنا تھا کہ بھارت اقوام متحدہ کی جانب سے دیا گیا کشمیریوں کا حق خودارادیت دبا کر بیٹھا ہے۔ پاکستان، آزاد کشمیر اور اوورسیز پاکستانی آج بھی مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی میں شانہ بشانہ ہیں۔

پونچھ سیکٹر کی ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن ریحانہ شاہ محمد نے کہا کہ 5 اگست 2019 وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے غیر قانونی طور پر آرٹیکل 370 اور 35-A کا خاتمہ کر دیا تھا۔

مرکزی چیئر پرسن مسلم کانفرنس سمعیہ ساجد کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر کی حیثیت ختم کر کے دنیا کے سامنے اپنا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا۔ کشمیری 10 لاکھ بھارتی فوج کے سامنے بھی نہ جھکے نہ ہی ڈرے، جدوجہد آزادی جاری ہے۔ وہ دن دور نہیں جب ہم مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کا پرچم لہرائیں گے۔

Watch Live Public News