ویب ڈیسک: افغانستان میں طالبان حکومت نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے افغانستان میں چھوڑے گئے فوجی ہتھیار ان کا حاصل کیا گیا 'مالِ غنیمت' ہےاور اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش پر یہ ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 20 جنوری کو حلف برداری کے دن دیے گئے بیان کے بعد افغانستان میں قائم طالبان کی عالمی سطح پر غیر تسلیم شدہ حکومت کا یہ پہلا باضابطہ ردِعمل ہے۔
ٹرمپ نے افغانستان کے ڈی فیکٹو (عملاً) حکمرانوں سے امریکی ہتھیار واپس لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو ایکس کے ایک اسپیس سیشن میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ " امریکا کی جانب سے افغانستان میں چھوڑے گئے اور سابق افغان حکومت کو فراہم کردہ ہتھیار مالِ غنیمت کے طور پر اب مجاہدین (یا طالبان فورسز) کے قبضے میں ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ "افغان عوام اب ان ہتھیاروں کے مالک ہیں اور انہیں اپنی آزادی، خودمختاری اور اسلامی نظام کے دفاع کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کوئی بیرونی طاقت ہمیں ان ہتھیاروں کو امریکا کے حوالے کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی نہ ہی ہم ان کے ہتھیار ڈالنے کا کوئی مطالبہ تسلیم کریں گے۔"
سال 2022 میں امریکی محکمۂ دفاع کی ایک رپورٹ میں یہ سامنے آیا تھا کہ فوجی انخلا مکمل ہونے کے بعد تقریباً سات ارب ڈالر مالیت کا فوجی ساز و سامان افغانستان میں رہ گیا تھا۔ اس ساز و سامان میں طیارے، فضا سے زمین پر مار کرنے والا گولہ بارود، فوجی گاڑیاں، ہتھیار، مواصلاتی آلات اور دیگر سامان شامل تھا جسے بعد ازاں طالبان نے قبضے میں لے لیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ واشنگٹن میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا تھا کہ ان کے پیش رو جو بائیڈن نے "ہمارے فوجی ساز و سامان کا ایک بڑا حصہ دشمن کو دے دیا۔" انہوں نے خبردار کیا تھا کہ طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کے لیے مستقبل کی مالی امداد کا انحصار امریکی فوجی ہتھیاروں کی واپسی پر ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے وضاحت کیے بغیر کہا تھا کہ اگر ہم سالانہ اربوں ڈالر ادا کر یں گے تو انہیں بتائیں کہ جب تک ہمارا فوجی ساز و سامان واپس نہیں کر دیتے ہم انہیں رقم نہیں دیں گے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے امریکا سے مالی امداد کی مد میں "ایک پائی" بھی وصول نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل نے واشنگٹن سے نہ تو کبھی مدد چاہی ہے اور نہ ہی کبھی اس کی توقع رکھی ہے۔