غیر ملکی خواتین اغوا کیس: بااثر ملزموں کو بھی رعایت نہیں ملے گی، ڈی آئی جی آپریشنز

غیر ملکی خواتین اغوا کیس: بااثر ملزموں کو بھی رعایت نہیں ملے گی، ڈی آئی جی آپریشنز

(ویب ڈیسک) لاہور میں غیرملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا بریفنگ میں کہا لاہورمیں ایک افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا ،2غیرملکی لڑکیوں کی بازیابی کیلئے سیف سٹی پر کال آئی ، 26جون کو دونوں لڑکیاں اسلام آبادپہنچیں،29جون کو لڑکیاں اسلام آباد سے لاہور آئیں،گاڑی کہاں  کہاں سے گزری تمام ریکارڈ ٹریس کیاگیا،جب لڑکی لاہور پہنچی تو اس نے والد کو گاڑی کی تصویر بھیجی ،لڑکی کے والد کو بھیجی گئی تصویر سے گاڑی کا نمبر ٹریس کیاگیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے کہا کہ گاڑی کے نمبر سے ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی، شاہدرہ ، ڈیفنس اور مختلف اضلاع میں چھاپے مارے گئے ، سرگودھا  کے مختلف مقامات پر  چھاپے مارے گئے ،ایک گھر پر چھاپے میں فیملی نے بتایا یہ نائب وزیراعظم کے رشتہ دار ہیں۔

فیصل کامران نے کہا کہ ملزم کو پتا چلا پولیس پیچھے ہے تو اس نے دونوں لڑکیوں کو واپس بھیجنے کا کہا ،دونوں غیرملکی خواتین کو ایئرپورٹ لے جانے کا کہا ،ایئرپورٹ جاتے ہوئے گاڑی کو حادثہ پیش آیا ،دونوں خواتین بھاگ گئیں،ملزم رضاڈارفرار ہو گیا ،اس کی گاڑی ٹریس ہوئی ،گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضاڈار کو ٹریس کیاگیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ سفارتخانے سے رابطے کے بعد لڑکیاں میڈیکل کرانے پر راضی ہوئیں،میڈیکل کرانے کے بعد لڑکیاں 164 کے بیان پر رضامند ہوئیں،دونوں لڑکیوں کا عدالت کے سامنے 164 کا بیان ریکارڈ کیاگیا، 164کے بیان کے دوران نیدرلینڈ کے قونصلر بھی موجود تھے ،سفارتخانے نے فوری لڑکیوں کو واپس بھیجنے کا کہا،164کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد لڑکیوں کو بحفاظت ایئرپورٹ پہنچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ افسران نے کہا جو ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی کرنی ہے ،مجسٹریٹ کا گھر کھلاہواتھا،2 دن پہلے دوسری جگہ شفٹ ہوئے تھے، مجسٹریٹ کے گھر جانے پر ایس ایچ او کومعطل کیاگیا۔

Watch Live Public News