مکہ کے پرانے محلے: عازمین حج کی مہمان نوازی کی زندہ روایت

مکہ کے پرانے محلے: عازمین حج کی مہمان نوازی کی زندہ روایت

(ویب ڈیسک ) مکہ مکرمہ کے پرانے محلے حج کی صدیوں پرانی مہمان نوازی کی زندہ مثال ہیں جو نہ صرف شہر کی پہچان کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ ہر سال لاکھوں حجاج کرام کے تجربے کو مزید خوشگوار بناتے ہیں۔ جدید ترقی اور تعمیرات کے باوجود، یہ تاریخی علاقے آج بھی مکہ کی روح اور ورثے کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

یہ محلے خانہ کعبہ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے حجاج کی آمد و رفت، تجارت اور ثقافتی میل جول کے اہم مراکز رہے ہیں۔ مکہ کے رہائشی ہمیشہ سے حجاج کی خدمت میں پیش پیش رہے ہیں — چاہے وہ راستہ بتانا ہو، ان کو اپنے گھروں میں جگہ دینا ہو یا حج سے پہلے ان کی میزبانی کرنا ہو۔ یہ سب مکہ والوں کی خالص نیت اور دینی جذبے کا حصہ رہا ہے۔

ان محلوں میں پرانے بازار بھی ہوتے تھے جو خاص طور پر حجاج کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے تھے۔ حج کے اختتام پر مکہ کے رہائشی عام طور پر رخصت ہونے والے حجاج کو روایتی تحفے پیش کرتے تھے، جسے خوش اخلاقی اور محبت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

ان محلوں کی تعمیراتی خوبصورتی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ پتھر اور مٹی سے بنی عمارتیں، تنگ مگر سایہ دار گلیاں اور ایسا ترتیب شدہ نقشہ جو لوگوں کو  آرام دہ ماحول بھی دیتی ہیں  اور پرائیویسی بھی۔ یہ سب کچھ اس وقت کی موسمی ضروریات اور سماجی اقدار کے مطابق بنایا گیا تھا۔

ام القریٰ یونیورسٹی سمیت مختلف تحقیقی اداروں نے ان محلوں کی حج سے جڑی روایات، کھانوں اور طرزِ زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔ ان میں خاص طور پر کھجور اور مقامی ذائقوں پر مبنی کھانے حجاج کی تواضع کے طور پر تیار کیے جاتے تھے۔

مکہ مکرمہ کے یہ پرانے محلے نہ صرف شہر کی تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے بھی محبت، خدمت اور مہمان نوازی کی روشن مثال ہیں۔

Watch Live Public News